أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ قَيْسٍ الْمَكِّيُّ الأَعْرَجُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ كَانَ «يَرُدُّ الْمُتَوَفَّى عَنْهُنَّ أَزْوَاجَهُنَّ مِنَ الْبَيْدَاءِ يَمْنَعُهُنَّ الْحَجَّ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا لا يَنْبَغِي لامْرَأَةٍ أَنْ تُسَافِرَ فِي عِدَّتِهَا حَتَّى تَنْقَضِيَ مِنْ طَلاقٍ كَانَتْ، أَوْ مَوْتٍ
سعید بن مسیب (رح) بیان کرتے ہیں کہ عمر بن خطاب (رض) ان عورتوں کو جو اپنے خاوند کی عدت میں ہوتیں تھی حج سے منع فرماتے اور مقام بیداء سے واپس کردیتے۔
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ ہم اسی کو اختیار کرنے والے ہیں۔ اور امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا یہی قول ہے کہ ہجو عورت عدت میں ہو اس کیلئے مناسب نہیں کہ وہ عدت مکمل کرنے کے بغیر سفر اختیار کرے۔ خواہ عدت طلاق ہو یا عدت وفات ہو۔