أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ دَخَلَتْ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَتْ: أَنَّ رَبِيعَةَ بْنَ أُمَيَّةَ اسْتَمْتَعَ بِامْرَأَةٍ مُوَلَّدَةٍ فَحَمَلَتْ مِنْهُ، فَخَرَجَ عُمَرُ فَزِعًا يَجُرُّ رِدَاءَهُ، فَقَالَ: «هَذِهِ الْمُتْعَةُ لَوْ كُنْتُ تَقَدَّمْتُ فِيهَا لَرَجَمْتُ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: الْمُتْعَةُ مَكْرُوهَةٌ، فَلا يَنْبَغِي، فَقَدْ نَهَى عَنْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا جَاءَ فِي غَيْرِ حَدِيثٍ، وَلا اثْنَيْنِ، وَقَوْلُ عُمَرَ: لَوْ كُنْتُ تَقَدَّمْتُ فِيهَا لَرَجَمْتُ، إِنَّمَا نَضَعُهُ مِنْ عُمَرَ عَلَى التَّهْدِيدِ، وَهَذَا قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
عروہ بن زبیر (رح) نے بیان کیا کہ خولہ بنت حکیم (رض) عنہا حضرت عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ کہ ربیعہ بن امیہ نے ایک مولدہ عورت سے متعہ کرلیا تھا۔ اور وہ عورت اس سے حاملہ ہوگئید یہ سن کر حضرت عمر (رض) اپنی چادر سمیٹتے ہوئے گھبراکر نکلے کہ یہ متعہ ہے۔ اگر میں اس کے حرام ہونے کا پہلے سے اعلان کرچکا ہوتا تو اسے سنگسار کرتا۔
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ متعہ ممنوع ہے۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے متعدد احادیث میں اس کی ممانعت فرمادی ہے حضرت عمر (رض) کا یہ کہنا کہ اگر میں اس کے متعلق پہلے سے اعلان کرچکا ہوتا تو اس کو سنگسار کرتا ۔ ہمارے نزدیک دھمکانے لیے ہے۔ یین امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا قول ہے۔