أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْمَرْأَةِ يُطَلِّقُهَا زَوْجُهَا وَهِيَ فِي بَيْتِ بِكِرَاءٍ، عَلَى مَنِ الْكِرَاءُ؟ قَالَ: عَلَى زَوْجِهَا، قَالُوا: فَإِنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَ زَوْجِهَا؟ قَالَ: فَعَلَيْهَا، قَالُوا: فَإِنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهَا؟ قَالَ: فَعَلَى الْأَمِيرِ.
سعید بن مسیب (رح) سے روایت ہے کہ مجھ سے ایک ایسی عورت کے متعلق سوال کیا گیا جس کے شوہر نے اسے طلاق دے دی ہو اور وہ کرایہ کے مکان میں رہائش پذیر ہو۔ تو کرایہ کس کو ادا کرنا ہوگا۔ سعید فرمانے لگے ۔ اس عورت کے شوہر پر۔ ان لوگوں نے سوال کیا اگر شوہر کے پاس کچھ نہ ہو تو فرمایا پھر عورت پر۔ لوگوں نے سوال کیا اگر عورت کے پاس بھی کجھ نہ ہو تو سعید کہنے لگے۔ امیر پر واجب ہے۔ (اس اثر کو امام مالک نے باب ما جاء فی عدۃ المرأۃ میں ذکر کیا ہے)