أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ «طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فِي مَسْكَنِ حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ طَرِيقُهُ فِي حُجْرَتِهَا، فَكَانَ يَسْلُكُ الطَّرِيقَ الأُخْرَى مِنْ أَدْبَارِ الْبُيُوتِ إِلَى الْمَسْجِدِ، كَرَاهَةَ أَنْ يَسْتَأْذِنَ عَلَيْهَا حَتَّى رَاجَعَهَا» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، لا يَنْبَغِي لِلْمَرْأَةِ أَنْ تَنْتَقِلَ مِنْ مَنْزِلِهَا الَّذِي طَلَّقَهَا فِيهِ زَوْجُهَا، إِنْ كَانَ الطَّلاقُ بَائِنًا، أَوْ غَيْرَ بَائِنٍ، أَوْ مَاتَ عَنْهَا فِيهِ حَتَّى تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
نافع (رح) بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر (رض) اپنی زوجہ کو ام المؤمنین حفصہ (رض) کا مسجد کو جانے کا رساتہ حجرہ حفصہ (رض) عنہا کے گھر میں سے تھا۔ پس ابن عمر (رض) گھروں کے پچھلی جانب سے ہو کر دوسرے راستہ سے مسجد جاتے تھے کیونکہ وہ رجوع کے بغیر مطلقعہ کے گھر سے گزرنے کی اجازت لینا ناپسند کرتے تھے۔ ( اس روایت کو باب ما جاء فی عدۃ المرأۃ فی بیتہا میں امام مالک نے نقل کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اس کو اختیار کرتے ہیں کہ عورت کو طلاق والے مکان سے عدت گزارے بغیر نکلنا جائز نہیں یا جہاں وہ خاوند فوت ہوا ہو۔ خواہ طلاق بائنہ یا مغلظہ۔