hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 601

.

موطأ الامام محمد

601
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، أَنَّ أُمَّ حَكِيمٍ بِنْتَ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ كَانَتْ تَحْتَ عِكْرِمَةَ بْنِ أَبِي جَهْلٍ فَأَسْلَمَتْ يَوْمَ الْفَتْحِ، وَخَرَجَ عِكْرِمَةُ هَارِبًا مِنَ الإِسْلامِ حَتَّى قَدِمَ الْيَمَنَ، فَارْتَحَلَتْ أُمُّ حَكِيمٍ حَتَّى قَدِمَتْ فَدَعَتْهُ إِلَى الإِسْلامِ فَأَسْلَمَ، فَقَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَثَبَ إِلَيْهِ فَرَحًا وَمَا عَلَيْهِ رِدَاؤُهُ حَتَّى بَايَعَهُ "، قَالَ مُحَمَّدٌ: إِذَا أَسْلَمَتِ الْمَرْأَةُ وَزَوْجُهَا كَافِرٌ فِي دَارِ الإِسْلامِ لَمْ يُفَرَّقْ بَيْنَهُمَا حَتَّى يُعْرَضَ عَلَى الزَّوْجِ الْإِسْلامُ، فَإِنْ أَسْلَمَ فَهِيَ امْرَأَتُهُ وَإِنْ أَبَى أَنْ يُسْلِمَ فُرِّقَ بَيْنَهُمَا وَكَانَتْ فُرْقَتُهُمَا تَطْلِيقَةً بَائِنَةً، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ وَإِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ
ام حکیم بنت حارث بن ہشام (رض) عنہا یہ عکرمہ بن ابو جہل کے نکاح میں تھیں۔ وہ فتح مکہ کے دن حلقہ بگوش اسلام ہوگیں۔ عکرمہ اسلام لانے کے خوف سے مکہ سے بھاگ کر یمن کی طرف چل دئیے۔ ام حکیم (رض) عنہا نے سامان سفر باندھا اور ان کے پاس چلی گئیں۔ اور اس کو اسلام کی دعوت دی۔ عکرمنہ اسلام قبول کرلیا اور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پہنچے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو دیکھا تو خوشی کھڑے ہوگئے اس حال میں کہ آپ کی چادر آپ پر نہ تھی یہاں تک کہ انھوں نے بیعت کرلی۔
قول محمد (رح) یہ ہے : جب عورت اسلام لے آئے اور اس کا شوہر دار الاسلام میں کافر ہو۔ تو ان میں تفریق نہ کی جائے گی۔ یہاں تک کہ شوہر پر اسلام پیش کیا جائے۔ اگر وہ اسلام قبول کرلے تو وہ اسی کی بیوی ہے اور اگر وہ اسلام قبول کرنے سے انکار کرے تو ان میں تفریق کردی جائے گی۔ یہ طلاق بائنہ شمار ہوگی۔ یہی امام ابوحنیفہ (رح) اور ابراہیم نخعی (رح) کا قول ہے۔