أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «أَيُّمَا امْرَأَةٍ طُلِّقَتْ فَحَاضَتْ حَيْضَةً، أَوْ حَيْضَتَيْنِ ثُمَّ رُفِعَتْ حَيْضَتُهَا فَإِنَّهَا تَنْتَظِرُ تِسْعَةَ أَشْهُرٍ فَإِنِ اسْتَبَانَ بِهَا حَمْلٌ فَذَلِكَ وَإِلا اعْتَدَّتْ بَعْدَ التِّسْعَةِ ثَلاثَةَ أَشْهُرٍ ثُمَّ حَلَّتْ»
سعید بن المسیب (رح) نے بیان کیا کہ حضرت عمر فاروق (رض) نے ارشاد فرمایا۔ جس عورت کو طلاق دے دی جائے اور اسے ایک یا دو حیض آکر خون رک گیا ہو۔ تو وہ نوماہ تک انتظار کرے۔ اگر حمل ظاہر ہوجائے تو یہ حمل ہے۔ ورنہ نو ماہ کے بعد تین ماہ اور انتظار کرے کے پھر ( عدت سے نکلے : ی اور) حلال ہوگی۔ (اس اثر کو امام مالک (رح) نے باب المراۃ یطلقہا زوجہا طلاقا میں ذکر کیا ہے)