أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، وَسُئِلَ عَنْ رَضَاعَةِ الْكَبِيرِ؟ فَقَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ أَبَا حُذَيْفَةَ بْنَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ كَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهِدَ بَدْرًا، وَكَانَ تَبَنَّى سَالِمًا الَّذِي يُقَالُ لَهُ: مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ، كَمَا كَانَ تَبَنَّى رَسُولُ اللَّهِ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ، فَأَنْكَحَ أَبُو حُذَيْفَةَ سَالِمًا وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ ابْنُهُ أَنْكَحَهُ ابْنَةَ أَخِيهِ فَاطِمَةَ بِنْتَ الْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَهِيَ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الأُوَلِ وَهِيَ يَوْمَئِذٍ مِنْ أَفْضَلِ أَيَامَى قُرَيْشٍ، فَلَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى فِي زَيْدٍ مَا أَنْزَلَ: {ادْعُوهُمْ لآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ} [الأحزاب: 5] رُدَّ كُلُّ [ص:212] أَحَدٍ تُبُنِّيَ إِلَى أَبِيهِ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ يُعْلَمُ أَبُوهُ رُدَّ إِلَى مَوَالِيهِ، فَجَاءَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلٍ امْرَأَةُ أَبِي حُذَيْفَةَ وَهِيَ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا بَلَغَنَا، فَقَالَتْ: كُنَّا نُرَى سَالِمًا وَلَدًا، وَكَانَ يَدْخُلُ عَلَيَّ وَأَنَا فُضْلٌ وَلَيْسَ لَنَا إِلا بَيْتٌ وَاحِدٌ، فَمَا تَرَى فِي شَأْنِهِ؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا بَلَغَنَا: «أَرْضِعِيهِ خَمْسَ رَضَعَاتٍ، فَيَحْرُمَ بِلَبَنِكَ، أَوْ بِلَبَنِهَا» ، وَكَانَتْ تَرَاهُ ابْنًا مِنَ الرَّضَاعَةِ، فَأَخَذَتْ بِذَلِكَ عَائِشَةُ فِيمَنْ تُحِبُّ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهَا مِنَ الرِّجَالِ، فَكَانَتْ تَأْمُرُ أُمَّ كُلْثُومٍ، وَبَنَاتِ أَخِيهَا يُرْضِعْنَ مَنْ أَحْبَبْنَ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهَا، وَأَبَى سَائِرُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهِمْ بِتِلْكَ الرَّضَاعَةِ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ، وَقُلْنَ لِعَائِشَةَ: وَاللَّهِ مَا نَرَى الَّذِي أَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْلَةَ بِنْتَ سُهَيْلٍ إِلا رُخْصَةً لَهَا فِي رَضَاعَةِ سَالِمٍ وَحْدَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لا يَدْخُلُ عَلَيْنَا بِهَذِهِ الرَّضَاعَةِ أَحَدٌ، فَعَلَى هَذَا كَانَ رَأْيُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَضَاعَةِ الْكَبِيرِ
ابن شہاب (رح) سے کسی نے دریافت کیا کہ بڑا آدمی اگر عورت کا دودھ پی لے تو رضاعت ثابت ہوجائے گی یا نہیں تو انھوں نے فرمایا مجھے عروہ بن زبیر (رض) نے خبر دی کہ حضرت ابو حذیفہ بن عتبہ (رض) جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابی اور شرکاء بدر میں سے تھے۔ انھوں نے سالم کو متبنی (لے پالک) بنالیا تھا۔ جنہیں مولی ابو حذیفہ کہا جاتا تھا۔ جیسے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زید بن حارثہ (رض) کو متبنی بنایا تھا۔ ابو حذیفہ (رض) سالم کو بیٹا تصور کرتے تھے۔ چنانچہ انھوں نے سالم کا نکاح اپنی بھتیجی فاطمہ بنت ولید سے کرادیا۔ فاطمہ (رض) عنہا پہلے پہلے ہجرت کرنے والی خواتین میں سے تھیں۔ اور اس وقت قریش کی افضل ترین عورتوں میں شمار ہوتی تھیں۔
جب اس آیت کا نزول ہوا ادعوہم لاباء ہم الایہ ان کو ان کے والدوں کی طرف منسوب کرو۔ یہ اللہ تعالیٰ ہاں زیادہ انصاف والی بات ہے۔ تو ہر متبنی اپنے باپ کی طرف منسوب کیا جانے لگا۔ اگر کسی کا باپ معلوم نہ ہوا ( یعین ان کا نام معلوم نہ ہوا) تو وہ ابنے مولی کی طرف منسوب ہوگیا۔ ابو حذیفہ (رض) کی بیوی سہلہ بن سہیل (رض) عنہا جو بنی عامر بن لؤی سے تھیں۔ انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر اس معاملے کا تذکرہ کیا۔ کہ ہم تم سالم کو اپنے بیٹے کی طرح سمجھتے تھے۔ ہم ایک ہی گھر میں رہتے ہیں۔ اور اس کا ہمارے ہاں بیٹوں کی طرح آنا جانا ہے۔ ہم کھلے بیٹھے ہوتے ہیں۔ اب اس کے متعلق کیا حکم ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ( جیسا کہ ہمیں معلوم ہیں) کہ اس کو پانچ گھونٹ اپنے دودھ کے پلادو۔ وہ تمہارے دودھ کی وجہ سے حرام ہوجائے گا۔ لفظ بلبنک یا بلبنہا فرمایا۔ چنانچہ وہ سالم کو اپنا رضاعی بیٹا خیال کرتی تھیں۔
حضرت عائشہ (رض) عنہا نے اسی بات کو دلیل بنایا۔ جس مرد کے متعلق وہ چاہتی تھیں کہ وہ ان کے گھر میں داخل ہو تو وہ اپنی بہن ام کلثوم یا اپنی بھتیجیوں کو حکم دیتی تھیں کہ وہ اسے دودھ پلادیں (چنانچہ وہ بھی ان کو دودھ پلادتی تھیں اور وہ ان کے پاس آتے جاتے تھے) مگر دوسری تمام ازواج مطہرات نے اس سے انکار کردیا۔ کہ ایسی رضاعت کی وجہ سے کوئی شخص ان کے ہاں داخل نہ ہو۔ ان سب نے حضرت عائشہ (رض) عنہا سے کہا اللہ کی قسم ! ہمارے خیال کے مطابق اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سہلہ بنت سہیل (رض) عنہا کو جو بات ارشاد فرمائی تھی وہ صرف سالم (رض) کے متعلق مخصوص تھی۔ ایسی رضاعت کی وجہ سے ہمارے ہاں کوئی شخص داخل نہ ہوگا۔ بڑوں کی رضاعت کے متعلق تمام ازواج مطہرات (رض) عنہن کا یہای خیال اور رائے تھی۔ ( اس روایت کو امام مالک (رح) نے باب ما جاء فی الرضاعۃ بعد البکر میں ذکر کیا ہے)