أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: لا رَضَاعَةَ إِلا فِي الْمَهْدِ، وَلا رَضَاعَةَ إِلا مَا أَنْبَتَ اللَّحْمُ وَالدَّمُ، قَالَ مُحَمَّدٌ: لا يُحَرِّمُ الرَّضَاعُ إِلا مَا كَانَ فِي الْحَوْلَيْنِ، فَمَا كَانَ فِيهَا مِنَ الرَّضَاعِ، وَإِنْ كَانَ مَصَّةً وَاحِدَةً فَهِيَ تُحَرِّمُ كَمَا قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَمَا كَانَ بَعْدَ الْحَوْلَيْنِ لَمْ يُحَرِّمْ شَيْئًا لأَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ فَتَمَامُ الرَّضَاعَةِ الْحَوْلانِ، فَلا رَضَاعَةَ بَعْدَ تَمَامِهِمَا تُحَرِّمُ شَيْئًا، وَكَانَ أَبُو حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ يَحْتَاطُ بِسِتَّةِ أَشْهُرٍ بَعْدَ الْحَوْلَيْنِ، فَيَقُولُ: يُحَرِّمُ مَا كَانَ فِي الْحَوْلَيْنِ وَبَعْدَهُمَا إِلَى تَمَامِ سِتَّةِ أَشْهُرٍ، وَذَلِكَ ثَلاثُونَ شَهْرًا، وَلا يُحَرِّمُ مَا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ، وَنَحْنُ لا نَرَى أَنَّهُ يُحَرِّمُ، وَنَرَى أَنَّهُ لا يُحَرِّمُ مَا كَانَ بَعْدَ الْحَوْلَيْنِ، وَأَمَّا لَبَنُ الْفَحْلِ فَإِنَّا نَرَاهُ يُحَرِّمُ، وَنَرَى أَنَّهُ يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ، فَالأَخُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مِنَ الأَبِ تَحْرُمُ عَلَيْهِ أُخْتُهُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مِنَ الأَبِ، وَإِنْ كَانَتِ الأُمَّانِ مُخْتَلِفَتَيْنِ إِذَا كَانَ لَبَنُهُمَا مِنْ رَجُلٍ وَاحِدٍ، كَمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: اللِّقَاحُ وَاحِدٌ، فَبِهَذَا نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ.
سعید بن مسیب (رح) فرماتے تھے کہ رضاعت وہی ہے جو گہوارہ میں ہو۔ رضاعت وہی ہے جس نے گوشت اور خون بڑھایا ہو۔
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ حرمت اسی رضاعت سے ہے جو دو سال کے اندر اندر ہو۔ جو رضاعت اس مدت میں ہو وہ حرمت کا سبب ہوتی ہے۔ خواہ ایک بار ہی جوس لگایا ہو۔ جیسا کہ عبداللہ بن عباس (رض) ، سعید بن المسیب، عروہ بن زبیر رحمہم اللہ نے فرمایا۔ اور جو رضاعت دو سال کے عبد ہوگی وہ کچھ بہی حرام نہیں کرتی۔ اس لیے اللہ جل شانہ نے ارشاد فرمایا۔ والوالدات یرضعین تا الرضاعۃ۔ مائیں اپنی اولاد کو پورے دو سال دودھ پلائیں جو رضاعت پوری کرنا چاہتے ہوں۔ رضاعت کی انتہائی مدت دو سال ہے۔ اس کے بعد کوئی رضاعت نہیں جو کسی کو حرام کردے۔
امام ابوحنیفہ (رح) دو سال کے بعد بطور احتیاط چھ ما بڑھاتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ تیس مہنے ہیں۔ ان کے بعد کوئی رضاعت ثابت نہ ہوگی۔ اور ہمارے نزدیک یہ ( چھ ماہ بعد والی) حرام نہیں کرتی کیونکہ دو سال کے بعد مدت رضاعت اختتام پذیر ہوجاتی ہے۔ ہمارے ہاں مرد کا دودھ حرمت کو ثابت کرتا ہے اور ہمارے نزدیک رضاعت کے سبب وہ تمام چیزیں حرام ہوجاتی ہیں جو نسب کی ودجہ سے حرام ہوتی ہیں۔ اس لیے دودھ شریک بھائی پر رضاعی بہن جو باپ کی طرف سے ہو وہ حرام ہوجاتی ہے۔ خواہ ماں ایک نہ ہو۔ بشرطیکہ دونوں کا دودھ ایک ہی مرد سے ہو۔ جیسا کہ عبداللہ بن عباس (رض) نے ارشاد فرمایا کہ دود ایک ہی مرد کا ہے۔ اسی کو ہم اختیار کرتے ہیں اور یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔