hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 632

.

موطأ الامام محمد

632
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ عُبَيْدَ بْنَ فَيْرُوزَ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَاذَا يُتَّقَى مِنَ الضَّحَايَا؟ فَأَشَارَ بِيَدِهِ، وَقَالَ: «أَرْبَعٌ» ، وَكَانَ الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ يُشِيرُ بِيَدِهِ وَيَقُولُ: يَدِي أَقْصَرُ مِنْ يَدِهِ وَهِيَ الْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ ظَلْعُهَا، وَالْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا، وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا، وَالْعَجْفاءُ الَّتِي لا تُنْقِي، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، فَأَمَّا الْعَرْجَاءُ فَإِذَا مَشَتْ عَلَى رِجْلِهَا فَهِيَ تُجْزِئُ، وَإِنْ كَانَتْ لا تَمْشِي لَمْ تُجْزِئْ، وَأَمَّا الْعَوْرَاءُ فَإِنْ كَانَ بَقِيَ مِنَ الْبَصَرِ الأَكْثَرُ مِنْ نِصْفِ الْبَصَرِ أَجْزَأَتْ، وَإِنْ ذَهَبَ النِّصْفُ فَصَاعِدًا لَمْ تُجْزِئْ، وَأَمَّا الْمَرِيضَةُ الَّتِي فَسَدَتْ لِمَرَضِهَا، وَالْعَجْفَاءُ الَّتِي لا تُنْقِي فَإِنَّهُمَا لا يُجْزِئَانِ
عبید بن فیروز بیان کرتے ہیں کہ براء بن عازب (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا۔ کہ قربانی میں کن جانوروں سے بچنا چاہیے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے دست اقدس سے اشارہ فرمایا۔ اور ارشاد فرمایا وہ چار ہیں۔ براء بن عازب اپنے ہاتھ سے اسی طرح اشارہ کرتے اور فرماتے میرا تھا آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بہت ہیی چھوٹا ہے۔ وہ چار یہ ہے۔ (١) لنگڑا جانور جو چل نہ سکے۔ (٢) وہ کانا جانور جس کا کانا ہونا ظاہر ہو۔ (٣) وہ بیمار جانور جس کی بیماری ظاہر و غالب ہو۔ (٤) ایسی دبلی قربانی جس میں گودا اور مخ نہ رہی ہو۔ (اس روایت کو باب ما ینہی من الضحایا میں امام مالک لائے ہیں)
قول محمد (رح) یہ ہیگ ہم اسی کو اخیتار کرتے ہیں۔ البتہ لنگڑا جانور اپنے پاؤں پر چل سکتا تو جائز ہے۔ اگر نہ چل سکتا ہو تو ناجائز ہے۔ کانے جانور کی نصف سے زیادہ بینائی باقی ہو تو جائز ہے۔ اگر نصف جاتی رہے تو جائز نہیں اور مریض جانور سے مراد وہ ہے جو مرض کے سبب خراب ہوجائے۔ اور دبلی پتلی سے مرارد وہ جس میں چربی اور مخ نہ رہے۔ یہ دونوں بہی جائز نہ ہوں گے۔
Muawtta Imam Muhammad: حدیث 632 - Hadith.one