أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «مَا ذُبِحَ بِهِ إِذَا بَضَعَ فَلا بَأْسَ بِهِ إِذَا اضْطُرِرْتَ إِلَيْهِ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، لا بَأْسَ بِذَلِكَ كُلِّهِ عَلَى مَا فَسَّرْتُ لَكَ، وَإِنْ ذُبِحَ بِسِنٍّ أَوْ ظُفْرٍ مَنْزُوعَيْنِ فَأَفْرَى الأَوْدَاجَ وَأَنْهَرَ الدَّمَ أُكِلَ أَيْضًا، وَذَلِكَ مَكْرُوهٌ، فَإِنْ كَانَا مَنْزُوعَيْنِ فَإِنَّمَا قَتَلَهَا قَتْلًا فَهِيَ مَيْتَةٌ لا تُؤْكَلُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى.
سعید بن المسیب (رح) نے فرمایا۔ کہ ہر وہ چیز جس سے ذبح کیا جائے۔ اور وہ کچھ کاٹ ڈالے۔ مجبوری کی حالت میں اس سے ذبح کرنا جائز ہے۔ کچھ حرج نہیں۔ معمولی الافظ کے فرق سے یہ آثار و روایت باب ما یجوز من الزکوۃ علي حال الضرورۃ میں امام مالک نے ذکر فرمائے ہیں)
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں۔ کہ ان تمام اشیاء میں کوئی حرج نہیں۔ جیسا کہ پہلے بیان کردیا گیا۔ اگر جدا کئے ہوتے دانت یا ناخن سے ذبح کیا جائے اور اس سے رگ کٹ جائے، خون بہہ جائے تو اس گوشت کو کھایا جائے۔ البتہ یہ مکروہ ہے۔ اگر دانت و ناخن اپنے مقام سے جدا نہ کئے ہوں تو وہ ذبیحہ مرادار ہیی۔ اسے کھانا نہ جائے گا۔ یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔