أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ سَعْدٍ، أَوْ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ جَارِيَةً لِكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ كَانَتْ تَرْعَى غَنَمًا لَهُ بِسَلْعٍ فَأُصِيبَتْ مِنْهَا شَاةٌ، فَأَدْرَكَتْهَا، ثُمَّ ذَبَحَتْهَا بِحَجَرٍ، فَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: لا بَأْسَ بِهَا كُلُوهَا "، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، كُلُّ شَيْءٍ أَفْرَى الأَوْدَاجَ وَأَنْهَرَ الدَّمَ فَذَبَحْتَ بِهِ فَلا بَأْسَ بِذَلِكَ إِلا السِّنَّ وَالظُّفْرَ وَالْعَظْمَ، فَإِنَّهُ مَكْرُوهٌ أَنْ تَذْبَحَ بِشَيْءٍ مِنْهُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
نافع (رح) نے ایک انصاری سے نقل کیا کہ معاذ بن سعد یا سعد بن معاذ (رض) نے اس سے بیان کیا کع کعب بن مالک (رض) کی ایک لونڈی مقام سلع میں بکریان چرارہی تھی۔ ایک بکری مرنے لگی تو اس لونڈی نے جاکر اسے ایک پتھر سے ذبح کیا پھر اس کے متعلق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر دریافت کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ اسے کھالو۔ اس میں کوئی حرج نہیں۔
قول محمد (رح) یہ ہے کہ ہم اس کو اختیار کرتے ہیں ہر وہ چیز جو رگیں کاٹ دے اور خون بہادے اس سے ذبح کرنا درست۔ اس میں کوئی حرج نہیں۔ البتہ ناخن، دانت یا ہڈی میں سے کسی چیز سے ذبح کرنا مکروہ ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام ف فقہاء اسی طرف گئے ہیں۔