أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ: نَادَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَرَى فِي أَكْلِ الضَّبِّ؟ قَالَ: «لَسْتُ بِآكِلِهِ، وَلا مُحَرِّمِهِ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: قَدْ جَاءَ فِي أَكْلِهِ اخْتِلَافٌ، فَأَمَّا نَحْنُ، فَلا نَرَى أَنْ يُؤْكَلَ
ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آواز دی اور عرض کیا۔ کہ آپ گوہ کے متعلق کیا ارشاد فرماتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ نہ میں اسے کھاتا ہوں اور نہ حرام کہتا ہوں۔ ( اس روایت کو بھی امام مالک (رح) نے مذکورہ باب میں ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ اس کے کھانے میں شدید اختلاف ہے۔ مکر ہمارے ہاں اس کا کھانا مناسب نہیں۔ اس کا سبب مندرجہ ذیل روایات ہیں۔