أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، أَنَّ ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي هُرَيْرَةَ، سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ " عَمَّا لَفَظَهُ الْبَحْرُ؟ فَنَهَاهُ عَنْهُ، ثُمَّ انْقَلَبَ فَدَعَا بِمُصْحَفٍ فَقَرَأَ: {أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ} [المائدة: 96] "، قَالَ نَافِعٌ: فَأَرْسَلَنِي إِلَيْهِ أنْ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ فَكُلْهُ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِقَوْلِ ابْنِ عُمَرَ الآخِرِ نَأْخُذُ، لا بَأْسَ بِمَا لَفَظَهُ الْبَحْرُ وَبِمَا حَسَرَ عَنْهُ الْمَاءُ إِنَّمَا يُكْرَهُ مِنْ ذَلِكَ الطَّافِي، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا رَحِمَهُمُ اللَّهُ
عبد الرحمن بن ابوہریرہ نے ابن عمر (رض) سے اس جانور کے متعلق دریافت کیا جس کو دریا باہر پھینک دے۔ تو انھوں فرمایا اسے نہ کھایا جائے۔ پھر لوٹ گئے اور قرآن مجید منگوایا اور یہ آیت پڑھی احل لکم صید البحر و طعامہ نافع کہتے ہیں کہ انھوں نے مجھے عبد الرحمن بن ابوہریرہ کے پاس یہ کہہ کر بھیجا کہ اسے کھالیا جائے اس میں کوئی مضائقہ نہیں ( اس روایت کو باب ما جاء فی ص ید البحر میں امام مالک (رح) ذکر فرماتی ہیں)
قول محمد (رح) یہ ہے : ابن عمر (رض) کے قول پر ہمارا عمل ہے۔ کہ جس کو سمندر یا دریا پھینک دے یا پانی کم ہونے سے اٹک جائے اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن بیماری کے سبب جو مرجائے تو اس کا کھانا مکروہ ہے۔ یہی امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا قول ہے۔