hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 649

.

موطأ الامام محمد

649
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ سَعِيدٍ الْجَارِيِّ بْنِ الْجَارِ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْحِيتَانِ يَقْتُلُ بَعْضُهَا بَعْضًا، وَيَمُوتُ صَرَدًا وَفِي أَصْلِ ابْنِ الصَّوَّافِ: وَيَمُوتُ بَرْدًا، قَالَ: «لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ» ، قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يَقُولُ مِثْلَ ذَلِكَ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، إِذَا مَاتَتِ الْحِيتَانُ مِنْ حَرٍّ أَوْ بَرْدٍ أَوْ قَتْلِ بَعْضِهَا بَعْضًا، فَلا بَأْسَ بِأَكْلِهَا، فَأَمَّا إِذَا مَاتَتْ مِيتَةَ نَفْسِهَا فَطَفَتْ فَهَذَا يُكْرَهُ مِنَ السَّمَكِ، فَأَمَّا سِوَى ذَلِكَ، فَلا بَأْسَ بِهِ
سعید جاری بن جار (رح) کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر (رض) سے ان مچھلیوں کے متعلق سوال کیا جو ایک دوسرے کو مار ڈالیں یا سردی کی شدت سے مرجائے (ابن الصواف کے نسخہ میں صردا کی بجائے بردا کا لفظ ہے) تو انھوں نے فرمایا۔ اس میں کوئی حرج نہیں۔ اور کہنے لگے کہ عبداللہ بن عمرو بن العاص بھی اسی طرح کہتے ہیں۔ ( اس اثر کو باب ما جاء فی صید البر میں امام مالک (رح) لائے ہیں)
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اس کو اختیار کرتے ہیں کہ جب مچھلیاں گرمی یا سردی سے مرجائیں یا ایک دوسرے کو مار ڈالیں تو ان کے کھالینے کنوئیں کوئی مضائقہ و حرج نہیں۔ لیکن جب خود بخود مرجائیں اور پانی کے اوپر تیرنے لکیں تو ایسی مچھلی کا کھانا مکروہ ہے۔ اس کے علاوہ کے کھانے میں کوئی حرج نہیں۔