أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ، أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ عَنْ «شَاةٍ ذَبَحَهَا فَتَحَرَّكَ بَعْضُهَا؟ فَأَمَرَهُ بِأَكْلِهَا» ، ثُمَّ سَأَلَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَقَالَ: «إِنَّ الْمَيْتَةَ لَتَتَحَرَّكُ، وَنَهَاهُ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: إِذَا تَحَرَّكَتْ تَحَرُّكًا: أَكْبَرُ الرَّأْيِ فِيهِ وَالظَّنِّ أَنَّهَا حَيَّةٌ أُكِلَتْ، وَإِذَا كَانَ تَحَرُّكُهَا شَبِيهًا بِالاخْتِلاجِ، وَأَكْبَرُ الرَّأْيِ وَالظَّنِّ فِي ذَلِكَ أَنَّهَا مَيْتَةٌ لَمْ تُؤْكَلْ
ابو مرہ نے ابوہریرہ (رض) سے ایسی بکری کے متعلق دریافت کیا جو ذبح کی گئی اور اس کے جسم کا کوئی حصہ ہلا تو انھوں نے اس کے کھانے کا حکم فرمایا۔ پھر یہی مسئلہ زید بن ثابت (رض) سے دریافت کیا گیا تو انھوں نے فرمایا مردہ بھی حرکت کرتا ہے۔ پس انھوں نے کھانے سے منع کردیا۔ اس روایت کو ابا ما یکرہ من الذبیحہ فی الذکاۃ میں امام مالک (رح) نے ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : اگر وہ اس طرح حرکت کرے کہ اس کے زندہ ہونے کا گمان غالب ہو تو اس کو کھالیا جائے اور جب اس کی حرکت چھڑکنے کے مشابہ ہو اور گمان غالب اس کے مرنے کا ہو تو اسے نہ کھایا جائے۔