hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 656

.

موطأ الامام محمد

656
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ " يَأْتُونَ بِلُحْمَانٍ، فَلا نَدْرِي هَلْ سَمَّوْا عَلَيْهَا أَمْ لا؟ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَمُّوا اللَّهَ عَلَيْهَا، ثُمَّ كُلُوهَا "، قَالَ: وَذَلِكَ فِي أَوَّلِ الإِسْلامِ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ إِذَا كَانَ الَّذِي يَأْتِي بِهَا مُسْلِمًا، أَوْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، فَإِنْ أَتَى بِذَلِكَ مَجُوسِيٌّ، وَذَكَرَ أَنَّ مُسْلِمًا ذَبَحَهُ، أَوْ رَجُلا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمْ يُصَدَّقْ، وَلَمْ يُؤْكَلْ بِقَوْلِهِ
عروہ بیان کرتے ہیں کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا گیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دیہاتی لوگ ہمارے پاس گوشت لاتے ہیں۔ اور ہمیں معلوم نہیں ہوتا کہ انھوں نے ان پر تکبیر کہی ہے یا نہیں ان کا کیا حکم ہے ؟ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ تم اس پر بسم اللہ پڑھ لو۔ پھر کھالو۔ امام مالک فرماتے ہیں یہ حکم ابتداء اسلام کا تھا۔
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں۔ یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔ مگر شرط یہ ہے کہ گوشت لانے والا مسلمان ہو یا اہل کتاب میں سے ہو۔ لیکن اگر مجوسی لائے اور بیان کرے کہ اس کو کسی مسلمان نے یا کتابی نے ذبح کیا ہے تو اس کو سچا نہ جانیں گے۔ اور اس کے کہنے کی بناء پر اسے نہ کھایا جائے گا۔