أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنِي رَبِيعَةُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، أَنَّهُ قَالَ: «وَزَنَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَعْرَ حَسَنٍ، وَحُسَيْنٍ، فَتَصَدَّقَتْ بِوَزْنِهِ فِضَّةً» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: أَمَّا الْعَقِيقَةُ فَبَلَغَنَا أَنَّهَا كَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَقَدْ فُعِلَتْ فِي أَوَّلِ الإِسْلامِ ثُمَّ نَسَخَ الأَضْحَى كُلَّ ذَبْحٍ كَانَ قَبْلَهُ، وَنَسَخَ صَوْمُ شَهْرِ رَمَضَانَ كُلَّ صَوْمٍ كَانَ قَبْلَهُ، وَنَسَخَ غُسْلُ الْجَنَابَةِ كُلَّ غُسْلٍ كَانَ قَبْلَهُ، وَنَسَخَتِ الزَّكَاةُ كُلَّ صَدَقَةٍ كَانَتْ قَبْلَهَا، كَذَلِكَ بَلَغَنَا
محمد بن علی (رح) نے بیان کیا کہ حضرت فاطمہ (رض) عنہا نے حضرت حسن و حسین (رض) عنہا کے بالوں کا وزن کیا اور اس کے برابر چاندی خیرات کی ( دونوں روایات کو امام مالک نے باب ما جاء فی العقیقہ میں ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : عقیقہ کے متعلق ہمیں معلوم ہوا کہ یہ زمانہ جاہلیت میں رائج تھا۔ اسلام کے ابتدائی دور میں کیا گیا ہے۔ پھر قربانی نے ہر ذبح کو منسوخ کردیا۔ اور رمضان کے روزوں نے تمام روزوں کو منسوخ کردیا جو اس سے پہلے تھے۔ اور غسل جنابت سے پہلے کے تمام مروجہ غسل کو منسوخ کردیا۔ اور زکوۃ نے ہر صدقہ کو منسوخ کردیا۔ جو پہلے رائج تھا۔ اسی طرح یہ بات ہم تک پہنچی ۔