أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، وَعِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ الْغِفَارِيِّ، أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ، " أَنَّ رَجُلا مِنْ بَنِي سَعْدِ بْنِ لَيْثٍ أَجْرَى فَرَسًا، فَوَطِئَ عَلَى إِصْبَعِ رَجُلٍ مِنْ بَنِي جُهَيْنَةَ، فَنَزَفَ مِنْهَا الدَّمُ، فَمَاتَ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِلَّذِينَ ادُّعِيَ عَلَيْهِمْ: أَتَحْلِفُونَ خَمْسِينَ يَمِينًا مَا مَاتَ مِنْهَا؟ فَأَبَوْا، وَتَحَرَّجُوا مِنَ الأَيْمَانِ، فَقَالَ لِلآخَرِينَ: احْلِفُوا أَنْتُمْ، فَأَبَوْا، فَقَضَى بِشَطْرِ الدِّيَةِ عَلَى السَّعْدِيِّينَ "
ابن شہاب (رح) نے سلیمان بن یاسر اور عراک ابن مالک غفاری سے نقل کیا کہ قبیلہ سعد بن لیث کے ایک آدمی نے گھوڑا دوڑایا گھوڑے نے بنی جہنیہ کے ایک آدمی کی انگلی کچل ڈالی۔ جس سے خون بھنے لگا اور وہ شخص مرگیا تو عمر ر ضی اللہ عنہ نے مدعا علیہم سے فرمایا کہ تم پج اس آدمی قسم کھاؤ گے کہ وہ اس سبب سے نہیں مراد انھوں نے انکار کردیا اور قسم نہ دی۔ پھر آپ نے دوسروں یعنی مدعیوں سے کہا کہ تم قسم کھاؤ گے تو انھوں نے بھی انکار کردیا۔ تو آپ نے بنو سعد کے لوگوں کو نصف دیت کا حکم دیا۔ ( اس اثر کو امام مالک نے باب دیتۃ الخطاء فی القتل میں ذکر کیا ہے) یہ فیصلہ فاروق اعظم (رض) نے ان کے درمیان مصالحت کے لیے کیا اس لیے امام مالک کہتے ہیں کہ اس پر عمل نہیں ہے۔