hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 678

.

موطأ الامام محمد

678
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزِّنَادِ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ أَخْبَرَهُ، " أَنَّ سَائِبَةَ كَانَ أَعْتَقَهُ بَعْضُ الْحُجَّاجِ، فَكَانَ يَلْعَبُ مَعَ ابْنِ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَابِدٍ، فَقَتَلَ السَّائِبَةُ ابْنَ الْعَابِدِيِّ، فَجَاءَ الْعَابِدِيُّ أَبُو الْمَقْتُولِ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَطَلَبَ دِيَةَ ابْنِهِ، فَأَبَى عُمَرُ أَنْ يَدِيَهُ، وَقَالَ: لَيْسَ لَهُ مَوْلًى، فَقَالَ الْعَابِدِيُّ لَهُ: أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ ابْنِي قَتَلَهُ؟ قَالَ: إِذَنْ تُخْرِجُوا دِيَتَهُ، قَالَ الْعَابِدِيُّ: هُوَ إِذَنْ كَالأَرْقَمِ، إِنْ يُتْرَكْ يَلْقَمْ، وإِنْ يُقْتَلْ يَنْقَمْ "، قَالَ مُحَمَدٌّ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، لا نَرَى أَنَّ عُمَرَ أَبْطَلَ دِيَتَهُ عَنِ الْقَاتِلِ، وَلا نَرَاهُ أَبْطَلَ ذَلِكَ لأَنَّ لَهُ عَاقِلَةً، وَلَكِنَّ عُمَرَ لَمْ يَعْرِفْهَا، فَيَجْعَلَ الدِّيَةَ عَلَى الْعَاقِلَةِ، وَلَوْ أَنَّ عُمَرَ لَمْ يَرَ لَهُ مَوْلًى، وَلا أَنَّ لَهُ عَاقِلَةً لَجَعَلَ دِيَةَ مَنْ قُتِلَ فِي مَالِهِ، أَوْ عَلَى بَيْتِ الْمَالِ، وَلَكِنَّهُ رَأَى لَهُ عَاقِلَةً، وَلَمْ يَعْرِفْهُمْ لأَنَّ بَعْضَ الْحُجَّاجِ أَعْتَقَهُ، وَلَمْ يُعْرَفِ الْمُعْتِقُ، وَلا عَاقِلَتُهُ، فَأَبْطَلَ ذَلِكَ عُمَرُ حَتَّى يُعْرَفَ، وَلَوْ كَانَ لا يَرَى لَهُ عَاقِلَةً لَجَعَلَ ذَلِكَ عَلَيْهِ فِي مَالِهِ، أَوْ عَلَى الْمُسْلِمِينَ فِي بَيْتِ مَالِهِمْ
سلیمان بن یسار (رح) نے فرمایا کہ ایک سائبہ ( وہ غلام جس کو آزاد کرتے وقت اس کا مالک کہے میں اس کا وارث نہ ہوں گا) کو کسی حاجی نے آزاد کردیا تھا۔ وہ بنی عابد کے کسی بیٹے کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ اس سائبہ نے عابدی کے بیٹے کو قتل کردیا۔ مقتول عابدی کا والد حضرت عمر (رض) کی خدمت میں آیا اور اس نے اپنے بیٹے کی دیت طلب کی حضرت عمر (رض) نے دیت دلانے سے انکار کردیا۔ اور فرمایا اس کا کوئی مالک نہ تھا عابدی نے کہا کیا خیال ہے کہ اگر میرا بیٹا اس کو قتل کردیتا آپ نے فرمایا تمہیں اس کی دیتدین پڑتی۔ عابدی نے کہا سائبہ گویا چتکبرے سانپ کی طرح ہے کہ اگر اس کو چھوڑ دیں تو ڈس لے اور اگر ماڈالا جائے تو اس کا انتقام لیا جائے۔
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں ہم نہیں سمجھتے کہ عمر (رض) نے قاتل سے دیت کو ہٹادیا، اور نہ یہ خیال کرتے ہیں کہ اس دیت کو باطل کردیا کیونکہ اس کا عاقلہ ہے لیکن حضرت عمر (رض) کو معلوم نہ تھا کہ وہ عاقلہ پر دیت کو لازم کرتے اور اگر ان کو معلو ہوجاتا کہ اس کا مولی نہیں اور نہ کوئی عاقلہ ہے تو مقتول کی دیت قاتل کے مال سے یا مسکین ہونے کی صورت میں بیت المال سے دلواتے، لیکن انھیں معلوم تھا کہ اس کا عاقلہ ہے۔ لیکن کون ہے۔ اس کا علم نہ ہوسکا۔ کیونکہ کسی حاجی نے اسے آزاد کیا تھا۔ نہ آزاد کرنے والا معلو ہوسکا اور نہ عاقلہ معلوم ہوسکا۔ پس انھوں نے دیت کا باطل کردیا۔ یہاں تک کہ اس کا آزاد کرنے والا معلوم ہوسکے۔ اگر انھیں ابتداء سے ہی معلوم ہوتا کہ کوئی اس کا عاقلہ نہیں ہے تو دیت اس کے مال سے یا مسلمانوں کے کے بیت المال سے دلواتے۔