hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 681

.

موطأ الامام محمد

681
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو الْحَضْرَمِيَّ، جَاءَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِعَبْدٍ لَهُ، فَقَالَ: " اقْطَعْ هَذَا، فَإِنَّهُ سَرَقَ، فَقَالَ: وَمَاذَا سَرَقَ؟ قَالَ: سَرَقَ مِرْآةً لامْرَأَتِي ثَمَنُهَا سِتُّونَ دِرْهَمًا، قَالَ عُمَرُ: أَرْسِلْهُ، لَيْسَ عَلَيْهِ قَطْعٌ، خَادِمُكُمْ سَرَقَ مَتَاعَكُمْ. قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، أَيُّمَا رَجُلٍ لَهُ عَبْدٌ سَرَقَ مِنْ ذِي رَحِمٍ مُحَرَّمٍ مِنْهُ، أَوْ مِنْ مَوْلاهُ، أَوْ مِنِ امْرَأَةِ مَوْلاهُ، أَوْ مِنْ زَوْجِ مَوْلاتِهِ، فَلا قَطْعَ عَلَيْهِ فِي مَا يَسْرِقُ، وَكَيْفَ يَكُونُ عَلَيْهِ الْقَطْعُ فِيمَا سَرَقَ مِنْ أُخْتِهِ أَوْ أَخِيهِ أَوْ عَمَّتِهِ أَوْ خَالَتِهِ، وَهُوَ لَوْ كَانَ مُحْتَاجًا زَمِنًا أَوْ صَغِيرًا، أَوْ كَانَتْ مُحْتَاجَةً، أُجْبِرَ عَلَى نَفَقَتِهِمْ، فَكَانَ لَهُمْ فِي مَالِهِ نَصِيبٌ، فَكَيْفَ يُقْطَعُ مَنْ سَرَقَ مِمَّنْ لَهُ فِي مَالِهِ نَصِيبٌ؟ وَهَذَا كُلُّهُ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
سائب بن یزید کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمرو حضرمی حضرت عمر فاروق (رض) کے پاس آئے۔ ان کے ساتھ ان کا ایک غلام تھا۔ عبداللہ کہنے لگے اس نے چوری کی ہے۔ اس کو ہاتھ کاٹنے کی سزا دی جائے۔ آپ نے دریافت فرمایا۔ اس نے کیا چوری کی ہے ؟ انھوں نے کہا میری بیوی کا آئینہ چوری کیا ہے۔ جس کی قیمت ساتھ درہم ہے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا اسے چھوڑ دو ۔ اس کا ہاتھ نہ کاٹا جائے گا۔ اس لیے کہ تمہارا خادم ہے۔ اور اس نے تمہاری چیز چرائی ہے ( اس روایت کو امام مالک (رح) نے باب مالاقطع فیہ میں ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں کہ اگر کسی شخص کے غلام نے اس کے رحم کے رشتہ دار، مالک کی بیوی اپنی مالکہ کے شوہر کی گوئی چیز چوری کرلی تو اس کا ہاتھ نہ کاٹا جائے گا۔ اور کس طرح اس کا ہاتھ کاٹا جاسکتا ہے۔ جب کہ کوئی شخص اپنے بھائی، بہن، پھوپھی، عخالہ کی کوئی جیز چوری کرے اور وہ ضروت مند ہے یا محتاج ہے یا اپاہج یا بچہ یا محتاج لڑکی ہو کہ جس کے خرچہ پر ان کو مجبور کیا جاسکا ہے۔ اور اس کا ان کے مال میں حصہ ہے۔ تو اس کی چوری پر کس طرح اس کا ہاتھ کاٹا جاسکتا ہے۔ یہ تمام امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کے اقوال ہیں۔