أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ مُعَلَّقٍ، وَلا فِي حَرِيسَةِ جَبَلٍ، فَإِذَا آوَاهُ الْمُرَاحُ، أَوِ الْجَرِينُ، فَالْقَطْعُ فِيمَا بَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ» .
قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، مَنْ سَرَقَ ثَمَرًا فِي رَأْسِ النَّخْلِ، أَوْ شَاةً فِي الْمَرْعَى، فَلا قَطْعَ عَلَيْهِ، فَإِذَا أُتِيَ بِالثَّمَرِ الْجَرِينَ أَوِ الْبَيْتَ، وَأُتِيَ بِالْغَنَمِ الْمُرَاحَ، وَكَانَ لَهَا مَنْ يَحْفَظُهَا، فَجَاءَ سَارِقٌ سَرَقَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا يُسَاوِي ثَمَنَ الْمِجَنِّ، فَفِيهِ الْقَطْعُ، وَالْمِجَنُّ كَانَ يُسَاوِي يَوْمَئِذٍ عَشَرَةَ دَرَاهِمَ، وَلا يُقْطَعُ فِي أَقَلَّ مِنْ ذَلِكَ.
وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا رَحِمَهُمُ اللَّهُ
عبداللہ بن عبد الرحمن بن ابو حسین (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ درخت سے لگے ہوئے پھل یا پہاڑ پر بغیر محافظ کے پھرنے والی بکری کی چوری پر ہاتھ نہ کاٹا جائے گا لیکن جب بکری گھر میں آجائے یا پھل توڑ لیا جائے کاٹ کر خشک کرنے کے لیے رکھا جائے اور اس کی قیمت ڈھال کے برابر ہو تو ہاتھ کاٹا جائے گا۔ ( اس روایت کو باب ما یجب فیہ القطع میں امام مالک (رح) نے ذکر فرمایا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں۔ جس نے درخت پر لگے ہوئے پھل کو جرایا یا اس بکری کو جو چراکاہ میں ہو تو اس کا ہاتھ نہ کاٹا جائے گا۔ لیکن جب پہل خشک کرنے کے لیے اس کی جگہ میں پھیلادیں یا گہر میں رکھ دیں اور بکری اپنے باڑے میں آجائے اور اس کا کوئی محافظ ہو، اسی یطرح چور آیا اور اس نے انی چوری کی جس کی قیمت ڈھال کے برابر ہو تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اس زمانہ میں ڈھال کی قمیت دس درہم کے برابر ہوا کرتی تھی۔ اس سے کم قیمت کی چیز پر ہاتھ کانا روانہ ہوگا۔ یہی امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا قول ہے۔