أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، خَرَجَتْ إِلَى مَكَّةَ، وَمَعَهَا مَوْلاتَانِ لَهَا، وَمَعَهَا غُلامٌ لِبَنِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، وَأَنَّهُ بُعِثَ مَعَ تَيْنِكِ الْمَرْأَتَيْنِ بِبُرْدِ مَرَاجِلَ قَدْ خِيطَتْ عَلَيْهِ خِرْقَةٌ خَضْرَاءُ، قَالَتْ: فَأَخَذَ الْغُلامُ الْبُرْدَ، فَفَتَقَ عَنْهُ، فَاسْتَخْرَجَهُ، وَجَعَلَ مَكَانَهُ لِبْدًا، أَوْ فَرْوَةً، وَخَاطَ عَلَيْهِ، فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ، دَفَعْنَا ذَلِكَ الْبُرْدَ إِلَى أَهْلِهِ، فَلَمَّا فَتَقُوا عَنْهُ وَجَدُوا ذَلِكَ اللِّبْدَ، وَلَمْ يَجِدُوا الْبُرْدَ، فَكَلَّمُوا الْمَرْأَتَيْنِ، فَكَلَّمَتَا عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَوْ كَتَبَتَا إِلَيْهَا، وَاتَّهَمَتَا الْعَبْدَ، فَسُئِلَ عَنْ ذَلِكَ، فَاعْتَرَفَ، فَأَمَرَتْ بِهِ عَائِشَةُ، فَقُطِعَتْ يَدُهُ، وَقَالَتْ عَائِشَةُ: «الْقَطْعُ فِي رُبْعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا»
عمرہ بنت عبد الرحمن بیان کرتی ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ (رض) مکہ مکرمہ روانہ ہوئیں۔ دو آزاد کردہ لونڈیان اور اولاد عدب اللہ بن ابی بکر (رض) کا ایک غلام ان کے ساتھ تھ۔ ان دولوں ڈیوں کے ساتھ ایک مراجل چادر روانہ کی۔ اس چارد پر ایک سبز کپڑأ سلائی کردیا۔ عمرہ کہتی ہیں کہ غلام نے وہ چادر لی اور سبز کپڑا پھاڑ کر نکال لیاد اور اس جگہ پوستین یا نمدہ رکھ کر سلائی کردی۔ جب ہم مدینہ منورہ پہنچے تو اس نے وہ چادر اس کے مالکو پہنچادی۔ اس نے چادر کو کھولا تو سبز چادر کی بجائے نمدہ تھا۔ ان دونوں لونڈیوں سے دریافت کیا گیا۔ تو انھوں نے حضرت عائشہ (رض) عنہا کو بتایا یا بذریعہ خط اطلاع دی اور اس غلام پر شبہ ظاہر کیا۔ غلام سے دریافت کیا : یا تو اس نے اعتراف کرلیا۔ حضرت عائشہ (رض) عنہا نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ حضرت عائشہ (رض) عنہا نے فرمایا ربع دینار یا اس سے زیادہ پر ہاتھ کاتا جاتا ہے۔ (اس روایت کو امام مالک (رح) ما یجب فیہ القطع میں ذکر کیا ہے)