hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 687

.

موطأ الامام محمد

687
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرَةَ ابْنَةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ سَارِقًا سَرَقَ فِي عَهْدِ عُثْمَانَ أُتْرُجَّةً، فَأَمَرَ بِهَا عُثْمَانُ أَنْ تُقَوَّمَ، فَقُوِّمَتْ بِثَلاثَةِ دَرَاهِمَ مِنْ صَرْفِ اثْنَيْ عَشَرَ دِرْهَمًا بِدِينَارٍ، فَقَطَعَ عُثْمَانُ يَدَهُ. قَالَ مُحَمَّدٌ: قَدِ اخْتَلَفَ النَّاسُ فِيمَا يُقْطَعُ فِيهِ الْيَدُ: فَقَالَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ: رُبْعُ دِينَارٍ، وَرَوَوْا هَذِهِ الأَحَادِيثَ، وَقَالَ الْعِرَاقُ لا تُقْطَعُ الْيَدُ فِي أَقَلَّ مِنْ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ، وَرَوَوْا ذَلِكَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَنْ عُمَرَ، وَعَنْ عُثْمَانَ، وَعَنْ عَلِيٍّ، وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَعَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ، فَإِذَا جَاءَ الاخْتِلافُ فِي الْحُدُودِ أُخِذَ فِيهَا بِالثِّقَةِ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
ابوبکر بن عبد الرحمن نے عمرہ بنت عبد الرحمن سے نقل کیا کہ حضرت عثمان غنی (رض) کے زمانہ خلافت میں ایک چور نے ایک ترنج چرالیا حضرت عثمان (رض) نے اس کی قیمت لگانی کا حکم دیا۔ اس کی قیمت بارہ درہم فی دینار کے حساب سے تین درہم لگائی گئی۔ حضرت عثمان (رض) نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا۔ ( اس روایت کو باب ما یجب فیہ القطع میں ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ لوگوں کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ کس قدر چوری کرنے پر ہاتھ کاٹا جائے۔ اہل مدینہ کا قول یہ ہے کہ ربع دینار پر ہاتھ کاٹا جائے اور اس کی تائید میں مندرجہ بالا روایات پیش کرتے ہیں۔ اور اہل عراق کے نزدیک دس درہم سے کم میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ ور اس کے متعلق نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، عمر فاروق، عثمان غنی، علی مرتضی، عبداللہ بن مسعود (رض) عنہم سے احادیث مروی ہیں۔ پس جب حدود میں اختلاف ہوجائے تو پختہ کو اختیار کیا جائے گا اور یہی امام ابوحنیفہ (رح) اور عام فقہاء کا قول ہے۔