hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 689

.

موطأ الامام محمد

689
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، أَنَّ عَبْدًا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ سَرَقَ وَهُوَ آبِقٌ، فَبَعَثَ بِهِ ابْنُ عُمَرَ إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ لِيَقْطَعَ يَدَهُ، فَأَبَى سَعِيدٌ أَنْ يَقْطَعَ يَدَهُ، قَالَ: «لا تُقْطَعُ يدُ الآبِقِ إِذَا سَرَقَ» ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: أَفِي كِتَابِ اللَّهِ وَجَدْتَ هَذَا: إِنَّ الْعَبْدَ الآبِقَ لا تُقْطَعُ يَدُهُ؟ فَأَمَرَ بِهِ ابْنُ عُمَرَ، فَقُطِعَتْ يَدُهُ ". قَالَ مُحَمَّدٌ: تُقْطَعُ يَدُ الآبِقِ، وَغَيْرِ الآبِقِ إِذَا سَرَقَ، وَلَكِنْ لا يَنْبَغِي أَنْ يَقْطَعَ السَّارِقَ أَحَدٌ إِلا الإِمَامُ الَّذِي يَحْكُمُ، لأَنَّهُ حَدٌّ لا يَقُومُ بِهِ إِلا الإِمَامُ، أَوْ مَنْ وَلَّاهُ الإِمَامُ ذَلِكَ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ
نافع (رح) بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر (رض) کے ایک مفرور غلام نے چوری کرلی۔ تو انھوں نے سعید بن العاص کے پاس اس کا ہاتھ کاٹنے کے لیے بھیجا۔ تو سعید نے اس کا ہاتھ کاٹنے سے انکار کردیا۔ اور کہا بھاگنے والا غلام جب چوری کرے تو اس کا ہاتھ نہ کاٹا جائے گا۔ ابن عمر (رض) نے کہا کیا تم نے اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ایسا حکم پایا ہے۔ کہ مفرور چور کا ہاتھ نہ کاٹا جائے گا۔ چنانچہ ابن عمر (رض) نے حکم دیا اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ ( اس روایت کو باب ما جاء فی قطع الاٰبق و السارق مں چ امام مالک (رح) نے ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : مفرور یا غیر مفرور غلام چوری کریں ہر دو کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ لیکن امام کے سوا کسی کے لیے جائز نہیں۔ کہ اس کا ہاتھ کاٹے کیونکہ یہ حد ہے۔ اور حد شرعی جاری کرنے حق امام کو ہے۔ یا امام جس کو مقرر کردے۔ یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔