أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الأَمَةِ إِذَا زَنَتْ، وَلَمْ تُحْصَنْ؟ فَقَالَ: «إِذَا زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا، ثُمَّ إِذَا زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا، ثُمَّ إِذَا زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا، ثُمَّ بِيعُوهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ» .
قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: لا أَدْرِي أَبَعْدَ الثَّالِثَةِ، أَوِ الرَّابِعَةِ.
وَالضَّفِيرُ: الْحَبْلُ.
قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، يُجْلَدُ الْمَمْلُوكُ وَالْمَمْلُوكَةُ فِي حَدِّ الزِّنَا نِصْفَ حَدِّ الْحُرَّةِ خَمْسِينَ جَلْدَةً، وَكَذَلِكَ الْقَذْفُ وَشُرْبُ الْخَمْرِ وَالسُّكْرِ.
وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے ابوہریرہ (رض) سے اور زید بن خالد جہنی سے نقل کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس لونڈی کے متعلق دریافت کیا گیا۔ جو زنا کا ارتکاب کرے اور محصن بھی نہ ہو۔ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ اگر وہ زنا کرے تو کوڑے مارو پھر زنا کرے تو کوڑے مارو۔ پہر زنا کرے تو کوڑے مارو۔ پھر اسے فروخت کردو۔ خواہ ایک بالوں کی رسی کے عوض ہی فروخت کرنا پرے۔ ابن شہاب کہتی ہیں کہ یہ مجھے یاد نہیں رہا کہ تیسر مرتبہ یا چوتہی مرتبہ کے بعد فروخت کا حکم فرمایا۔ اور الضفیر بالوں کی رسی (امام مالک نے اس روایت کو باب ما جامع ما جاء فی حد الزنا میں ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اس کو اختیار کرتے ہیں کہ غلام اور لونڈی کی حد نصف ہوگی۔ اور وہ پچاس کوڑے ہیں۔ حد قذف شراب، نشہ تینوں کا یہی حکم ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) کا اور ہمارے عام فقہاء کا یہی قول ہے۔