أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ» .
قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، لا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ، وَلا الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ، وَالْكُفْرُ مِلَّةٌ وَاحِدَةٌ، يَتَوَارَثُونَ بِهِ، وَإِنِ اخْتَلَفَتْ مِلَلُهُمْ، يَرِثُ الْيَهُودِيُّ النَّصْرَانِيَّ، وَالنَّصْرَانِيُّ الْيَهُودِيَّ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
علی بن حسین نے عمر بن عثمان (رح) سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے اسامہ بن زید (رض) سے سنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ کہ مسلمان کافر کا وارث نہ ہوگا۔ ( اس اثر کو باب میراث اہل الملل میں امام مالک نے ذکر کیا ہے) ۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں۔ کہ مسلمان کافر کا وارث نہیں ہوسکتا۔ اور نہ کافر مسلمان کا وارث ہوتا ہے۔ کفر ایک متحدہ ملت ہے وہ ایک دوسرے کے وارث ہوں گے۔ اگر مختلف مذاہب ہوں گے تو نصرانی یہویدی کا وارث ہوگا اور یہودی نصرانی کا۔ یہی قول امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا ہے)