أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، أَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ، أَخْبَرَهُ، " أَنَّ الْعَاصِ بْنَ هِشَامٍ هَلَكَ وَتَرَكَ بَنِينَ لَهُ ثَلاثَةً؛ ابْنَيْنِ لأُمٍّ وَرَجُلا لِعَلَّةٍ، فَهَلَكَ أَحَدُ الِابْنَيْنِ اللَّذَيْنِ هُمَا لأُمٍّ، وَتَرَكَ مَالا وَمَوَالِيَ، فَوَرِثَهُ أَخُوهُ لأُمِّهِ وَأَبِيهِ، وَوَرِثَ مَالَهُ وَوَلاءَ مَوَالِيهِ، ثُمَّ هَلَكَ أَخُوهُ وَتَرَكَ ابْنَهُ وَأَخَاهُ لأَبِيهِ، فَقَالَ ابْنُهُ: قَدْ أَحْرَزْتُ مَا كَانَ أَبِي أَحْرَزَ مِنَ الْمَالِ وَوَلَاءِ الْمَوالِي، وَقَالَ أَخُوهُ: لَيْسَ كُلُّهُ لَكَ، إِنَّمَا أَحْرَزْتَ الْمَالَ، فَأَمَّا وَلَاءُ الْمَوَالِي فَلا، أَرَأَيْتَ لَوْ هَلَكَ أَخِي الْيَوْمَ، أَلَسْتُ أَرِثُهُ أَنَا؟ فَاخْتَصَمَا إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، فَقَضَى لأَخِيهِ بِوَلاءِ الْمَوَالِي، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، الْوَلاءُ لِلأَخِ مِنَ الأَبِ دُونَ بَنِي الأَخِ مِنَ الأَبِ وَالأُمِّ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ
عبداللہ بن ابوبکر بن حزم (رح) نے بیان کیا کہ عبد المالک بن ابی بکر بن ہشام نے مجھے خبر دی کہ میرے والد ابوبکر نے بیان کیا کہ عاص بن ہشام کا انتقال ہوگیا۔ اور انھوں نے تین بیٹے چھوڑے۔ ان میں دو ماں کی طرف سے حقیقی بھائی تھے۔ اور ایک سوتیلا بھائی تھا۔ ان حقیقی بھائیوں میں سے بہی ایک فوت ہوگیا۔ اور اس نے مال اور آزادہ کردہ غلام چھوڑے۔ ماں باپ کی طرف حقیقی بھائی اس کے مالا، ودلاء اور آزاد کردہ غلاموں میں اس کا وارث ہوا۔ پھر اس کا بھائی فوت ہوگیا۔ اس نے ایک بیٹا اور سوتیلا بھائی چھوڑا۔ بیٹے نے کہا میں اپنے باپ اور آزاد کردہ غلاموں کی ولاء کا وارث ہوں۔ اس کے بھائی نے کہا تو ہر چیز کا مالک نہیں ہے۔ تو مال کا مالک ہے۔ مگر تو ولاء کا مالک نہیں ہے۔ اگر آج میرا بھائی فوت ہوتا تو کیا میں اس کا وارث نہ ہوتا ؟ وہ دونوں اپنا تنازعہ حضرت عثمان (رض) کی خدمت میں لے گئے۔ تو آپ نے ولاء کا مالک بھاؤ کو قرار دیا۔ ( یہ وراثت ولاء کا مالک بننے والا علاتی ( باپ شریک بھائی ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : ولاء علاتی بھائی کو پہنچتی ہے۔ بھائی کی موجودگی میں بھتیجے کو نہیں ملتی۔ ہم اس کو مختار قرار دیتے ہیں اور امام ابوحنیفہ (رح) کا بہی یہی قول ہے۔