أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيَّ، أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ قِيلَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: إِنَّ هَهُنَا غُلامًا يَفَاعًا مِنْ غَسَّانَ، وَوَارِثُهُ بِالشَّامِ، وَلَهُ مَالٌ، وَلَيْسَ هُنَا إِلا ابْنَةُ عَمٍّ لَهُ، فَقَالَ عُمَرُ: مُرُوهُ، فَلْيُوصِ لَهَا، فَأَوْصَى لَهَا بِمَالٍ، يُقَالُ لَهُ: بِئْرُ جُشَمَ، قَالَ عَمْرُو بْنُ سُلَيْمٍ: فَبِعْتُ ذَلِكَ الْمَالَ بِثَلاثِينَ أَلْفًا بَعْدَ ذَلِكَ، وَابْنَةُ عَمِّهِ الَّتِي أَوْصَى لَهَا هِيَ أُمُّ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ
ابوبکر بن حزم بیان کرتے ہیں کہ عمرو بن سلیم زرقی نے بتلایا کہ حضرت عمر (رض) سے کہا گیا کہ مدینہ منورہ میں غسان قبیلہ کا قریب البلوغ لڑکا ہے۔ اس کے ورثاء شام میں ہیں۔ اس کے پاس مال ہے۔ اور یہاں اس کی ایک چچا زاد بہن کے سوا اور کوئی نہیں ہے۔ عمرو بن سلیم کہتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے لگے اسے کہو کہ وہ اپنی چچازاد بہن کے لیے وصیت کردے۔ تو اس نے اپنی جائیداد میں سے بیئر جشم کی وصیت اپنی چچازاد بہن کے لیے کردی ۔ عمرو بن سلیم کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے وہ کنواں تیس ہزار ( دراہم) میں فروخت کیا۔ اور جس چچا زاد بہن کے حق میں اس نے وصیت کی تھی وہ عمرو بن سلیم کی وا الدہ تھیں۔