أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: كَانَ عَلَيَّ مَشْيٌ، فَأَصَابَتْنِي خَاصِرَةٌ، فَرَكِبْتُ حَتَّى أَتَيْتُ مَكَّةَ، فَسَأَلْتُ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ وَغَيْرَهُ، فَقَالُوا: عَلَيْكَ هَدْيٌ، فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ سَأَلْتُ، فَأَمَرُونِي أَنْ أَمْشِيَ مِنْ حَيْثُ عَجَزْتُ مَرَّةً أُخْرَى، فَمَشَيْتُ ".
قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِقَوْلِ عَطَاءٍ نَأْخُذُ، يَرْكَبُ وَعَلَيْهِ هَدْيٌ لِرُكُوبِهِ، وَلَيْسَ عَلَيْهِ أَنْ يَعُودَ
یحییٰ بن سعید بیان کرتے ہیں کہ مجھ پر پیدل چلنا واجب تھا۔ میری کمر میں درد ہوگیا تو میں سوار ہو کیا۔ مکہ مکرمہ پہنچا تو میں نے عطاء بن ابی رباح (رح) سے دریافت کیا انھوں نے کہا تم پر ہدی واجب ہے۔ پھر جب میں مدینہ منورہ آیا تو میں نے لوگوں سے اس بارہ میں دریافت کیا۔ انھوں نے مجھے بتلایا کہ میں جس جگہ سے مجبور ہو کیا تھا۔ وہاں سے دو باہ پیدل چل کر جاؤں۔ چنانچہ میں پیدل چل کر گیا۔
محمد کہتے ہیں کہ ہم عطاء کے قول کو اختیار کرتے ہیں۔ اور سوار ہونے کی وجہ سے اس پر ہدی لازم ہے۔ اس پر دوبارہ پیدال چلنا لازم نہیں۔