أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، يَقُولُ: أَتَتِ امْرَأَةٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَتْ: إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ ابْنِي، فَقَالَ: لا تَنْحَرِي ابْنَكِ، وَكَفِّرِي عَنْ يَمِينِكِ، فَقَالَ شَيْخٌ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ جَالِسٌ: كَيْفَ يَكُونُ فِي هَذَا كَفَّارَةٌ؟ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَرَأَيْتَ أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى، قَالَ: {وَالَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ} [المجادلة: 3] ، ثُمَّ جَعَلَ فِيهِ مِنَ الْكَفَّارَةِ مَا قَدْ رَأَيْتَ؟ ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِقَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ نَأْخُذُ، وَهَذَا مِمَّا وَصَفْتُ لَكَ أَنَّهُ مَنْ حَلَفَ، أَوْ نَذَرَ نَذْرًا فِي مَعْصِيَةٍ، فَلا يَعْصِيَنَّ، وَلْيُكَفِّرَنَّ، عَنْ يَمِينِهِ
قاسم بن محمد (رح) بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت ابن عباس (رض) کی خدمت میں آئی ۔ اور کہنے لگی میں نے نذر مانی ہے کہ اپنے بیٹے کو ذبح کروں گی۔ آپ نے فرمایا تو اپنے بیٹے کو ذبح نہ کر بلکہ اپنی قسم کا کفارہ دے دیی۔ ابن عباس (رض) کے پاس ایک بوڑہھا بیٹھا تھا اس نے کہا اس میں کفارہ کیسے ہوگا ؟ ( گناہ کی قسم لغو ہوتی ہے اس پر کفارہ نہیں ہوتا) ابن عباس (رض) نے فرمایا تم غور نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ و الذین یظاہرون من نساء ہم پھر اس میں اللہ تعالیٰ نے کفارہ مقرر فرمایا ہے۔ ( اس روایت کو باب ما لا یجوز من النذور فی معصیۃ اللہ میں نقل کیا ہے۔
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ ہم ابن عباس کے قول کو اختیار کرتے ہیں اور وہ وہی ہے جو میں نے تمہیں پہلے بیان کیا کہ جس نے قسم اٹھالی یا معصیت کی نذر مانی وہ ہرگز معصیت نہ کرے اور اپنی قسم کا کفارہ دے ۔
( اس روایت کو باب ما یجب فیہ الکفارۃ عن الایمان میں ذکر کیا ہے) ۔