أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، وَهُوَ يَقُولُ: لا وَأَبِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ، فَمَنْ كَانَ حَالِفًا فَلْيَحْلِفْ بِاللَّهِ، ثُمَّ لِيَبْرُرْ، أَوْ لِيَصْمُتْ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، لا يَنْبَغِي لأَحَدٍ أَنْ يَحْلِفَ بِأَبِيهِ، فَمَنْ كَانَ حَالِفًا فَلْيَحْلِفْ بِاللَّهِ، ثُمَّ لِيَبْرُرْ، أَوْ لِيَصْمُتْ
ابن عمر (رض) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عمر (رض) کو لا وابی کے الفاظ قسم کے موقعہ پر استعمال کرتے سنا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں آباؤ اداد کی قسم کھانے سے منع کیا ہے۔ جو شخص قسم کھانا چاہے وہ صرف اللہ تعالیٰ کی قسم کھائے۔ پھر وہ اسے پوری کرے یا ی خاموش رہے ( قسم نہ اٹھائے) ( اس روایت کو باب جامع الایمان میں ذکر کیا ہے) ۔
قول محمد (رح) یہی ہے : اسی کو ہم اختیار کرتے ہیں کسی کیلئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے باپ کی قسم کھائے جس کو قسم کھانی ہو وہ اللہ تعالیٰ کی قسم کھائے۔ بھر قسم پوری کرے یا خاموش رہے ( قسم نہ اٹھائے)