أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ بَاعَ غُلامًا لَهُ بِثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ بِالْبَرَاءَةِ، وَقَالَ الَّذِي ابْتَاعَ الْعَبْدَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: بِالْعَبْدِ دَاءٌ لَمْ تُسَمِّهِ لِي، فَاخْتَصَمَا إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، فَقَالَ الرَّجُلُ: بَاعَنِي عَبْدًا وَبِهِ دَاءٌ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: بِعْتُهُ بِالْبَرَاءَةِ، فَقَضَى عُثْمَانُ عَلَى ابْنِ عُمَرَ، أَنْ يَحْلِفَ بِاللَّهِ: لَقَدْ بَاعَهُ وَمَا بِهِ دَاءٌ يَعْلَمُهُ، فَأَبَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَنْ يَحْلِفَ، فَارْتَجَعَ الْغُلامَ، فَصَحَّ عِنْدَهُ الْعَبْدُ، فَبَاعَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بَعْدَ ذَلِكَ بِأَلْفٍ وَخَمْسِ مِائَةِ دِرْهَمٍ ".
قَالَ مُحَمَّدٌ: بَلَغَنَا عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّهُ قَالَ: مَنْ بَاعَ غُلامًا بِالْبَرَاءَةِ فَهُوَ بَرِيءٌ مِنْ كُلِّ عَيْبٍ، وَكَذَلِكَ بَاعَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بِالْبَرَاءَةِ، وَرَآهَا بَرَاءَةً جَائِزَةً.
فَبِقَوْلِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ نَأْخُذُ، مَنْ بَاعَ غُلامًا، أَوْ شَيْئًا، وَتَبَرَّأَ مِنْ كُلِّ عَيْبٍ، وَرَضِيَ بِذَلِكَ الْمُشْتَرِي، وَقَبَضَهُ عَلَى ذَلِكَ فَهُوَ بَرِيءٌ مِنْ كُلِّ عَيْبٍ عَلِمَهُ، أَوْ لَمْ يَعْلَمْهُ، لأَنَّ الْمُشْتَرِيَ قَدْ برَّأَهُ مِنْ ذَلِكَ.
فَأَمَّا أَهْلُ الْمَدِينَةِ قَالُوا: يَبْرَأُ الْبَائِعُ مِنْ كُلِّ عَيْبٍ لَمْ يَعْلَمْهُ، فَأَمَّا مَا عَلِمَهُ، وَكَتَمَهُ، فَإِنَّهُ لا يَبْرَأُ مِنْهُ، وَقَالُوا: إِذَا بَاعَهُ بَيْعَ الْمِيرَاثِ بَرِئَ مِنْ كُلِّ عَيْبٍ عَلِمَهُ، أَوْ لَمْ يَعْلَمْهُ، إِذَا قَالَ: بِعْتُكَ بَيْعَ الْمِيرَاثِ، فَالَّذِي يَقُولُ: أَتَبَرَّأُ مِنْ كُلِّ عَيْبٍ، وَبَيَّنَ ذَلِكَ أَحْرَى أَنْ يَبْرَأَ لِمَا اشْتَرَطَ مِنْ هَذَا، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَقَوْلُنَا، وَالْعَامَّةِ
یحییٰ بن سعید بیان کرتے ہیں کہ سالم بن عبداللہ نے ایک غلام آٹھ سو درہم میں اس شرط کے ساتھ فروخت کیا کہ وہ اس کے عیب کے ذمہ دار نہیں۔ غلام کے خریدار نے عبداللہ بن عمر (رض) کو کہا کہ غلام بیمار ہے۔ آپ نے اس کا مرض مجھ سے بیان نہیں کیا۔ دونوں اپنا جھگڑا حضرت عثمان (رض) کی خدمت میں لے گئے۔ خریدار نے کہا کہ انھوں نے میرے پاس ایک غلام فروخت کیا اور وہ بیمار ہے۔ ابن عمر (رض) عنہمانے کہا میں نے عیب کی اس ش رط پر فروخت کیا تھا کہ ہم اس کے عیب کے ذمہ دار نہ ہوں گے۔ حضرت عثمان (رض) نے فیصلہ کیا کہ ابن عمر (رض) اللہ تعالیٰ کی قسم کھائین کہ انھوں جب غلام فروخت کیا تو اس وقت ان کو اس کے بیمار ہونے علم نہ تھا۔ ابن عمر (رض) نے قسم سے انکار کردیا تو غلام کو ان کے پاس لوٹادیا گیا۔ وہ غلام ان کے پاس آکر درست ہوگیا۔ پھر ابن عمر (رض) نے اس کو ڈیڑھ ہزار درہم میں فروخت کیا۔ (اس روایت کو امام مالک (رح) نے باب العیب فی الرقیق میں ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) ہے کہ ہمیں اس سلسلہ میں زید بن ثابت کا قول پہنچا ہے کہ انھوں نے فرمایا۔ جس شخص نے غلام عیب کی عدم ذمہ داری پر فروخت کیا وہ اس کے ہر عیب سے بری ہے۔ جس طرح ابن عمر (رض) نے عیب کی عدم ذمہ داری پر فروخت کیا۔ انھوں نے برأت کو جائز قرار دیا۔ ہم زید بن ثابت اور ابن عمر (رض) کے قول کو اختیار کرتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کوئی چیز یا غلام خریدے اور اس کے ہر عیب سے بری ہونے کی شرط کرلے اور مشتری اس پر رضا مندی ظاہر کرکے قبضلہ کرلے تو وہ چیز ہر عیب کی ذمہ داری سے آزاد ہے۔ خواہ اسے عیب معلوم ہو یا نہ ہو۔ کیونکہ خریدار نے اس کو اس بات سے آزاد کردیا ہے۔ لیکن علماء مدینہ کے ہان فروخت کرنے والا صرف اس عیب سے بری ہوگا۔ جس کا اسے علم نہیں۔ جس عیب کا اسے علم ہو اور اس نے اس عیب کو چھپایا ہو تو وہ اس سے بری الذمہ نہ ہوگا۔ وہ کہتے ہیں کہ جب فروخت کرنے والا عیب بتلا کر اس سے عدم ذمہ داری کی شرط کرے تب تو وہ اس سے بری ہوگا۔ خواہ اس عیب کا اس کو علم ہو یا نہ ہو۔ جب باس نے کہہ دیا کہ میں برائت کی شرط پر فروخت کرتا ہوں۔ اور اسنے عیب بتلا بھی دیا تو اس شرط کی بناء بر مناسب ہے کہ وہ بری ہوجائے۔ یہی امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے فقہاء کا قول ہے۔