hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 772

.

موطأ الامام محمد

772
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ: لا بَأْسَ بِأَنْ يَبْتَاعَ الرَّجُلُ طَعَامًا إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ بِسِعْرٍ مَعْلُومٍ إِنْ كَانَ لِصَاحِبِهِ طَعَامٌ، أَوْ لَمْ يَكُنْ، مَا لَمْ يَكُنْ فِي زَرْعٍ لَمْ يَبْدُ صَلاحُهَا، أَوْ فِي تَمْرٍ لَمْ يَبْدُ صَلاحُهَا، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَى عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ، وَعَنْ شِرَائِهَا حَتَّى يَبْدُوَ صَلاحُهَا» . قَالَ مُحَمَّدٌ: هَذَا عِنْدَنَا لا بَأْسَ بِهِ، وَهُوَ السَّلَمُ، يُسْلِمُ الرَّجُلُ فِي طَعَامٍ إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ، بِكَيْلٍ مَعْلُومٍ، مِنْ صِنْفٍ مَعْلُومٍ، وَلا خَيْرَ فِي أَنْ يَشْتَرِطَ ذَلِكَ مِنْ زَرْعٍ مَعْلُومٍ، أَوْ مِنْ نَخْلٍ مَعْلُومٍ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى
نافع رحمنہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن عمر (رض) فرماتے تھے کہ اس میں کوئی حرج نہیں کہ کوئی شخص ایک مقررہ قیمت کے بدلے ادھار خریدے، خواہ فروخت کرنے والے کے پاس غلہ موجود ہو یا نہ ہو، بشرطیکہ کھیتی یا پہل ایسی صورت میں نہ ہو کہ اس کی بہتری کا حال ظاہر نہ ہوا ہو۔ کیونکہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسی حالت میں پھلوں کو خریدو فروخت سے منع کیا جبکہ پھولوں کی بہتری کا حال ظاہر نہ ہوا ہو (اس روایت کو باب السلفۃ فی الطعام میں امام مالک لائے ہیں)
قول محمد (رح) یہ ہے : اس بیع میں کوئی حرج نہیں ہے۔ سلم کی حقیقت یہ ہے کہ آدمی نے ایک معین غلہ مقررہ مدت پر نرخ مقرر کرکے اس کا وصف وغیرہ ظاہر کردیا ۔ اور اگر کسی خاص کھیت یا خاص درخت کا تعین کردیا ۔ تو اس میں کوئی خیر و بھلائی نہیں۔ یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔