أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، " أَنَّ مَحْمُودَ بْنَ لَبِيدٍ سَأَلَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ عَنِ الرَّجُلِ يُصِيبُ أَهْلَهُ ثُمَّ يُكْسِلُ؟ فَقَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: يَغْتَسِلُ "، فَقَالَ لَهُ مَحْمُودُ بْنُ لَبِيدٍ: فَإِنَّ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ لا يَرَى الْغُسْلَ، فَقَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: نَزَعَ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ , قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ إِذَا الْتَقَى الْخِتَانَانِ، وَتَوَارَتِ الْحَشَفَةُ وَجَبَ الْغُسْلُ أَنْزَلَ، أَوْ لَمْ يُنْزِلْ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ
حضرت محموۃ د بن لبید انصاری (رض) نے حضرت زید بن ثابت انصاری (رض) سے اس مرد کے متعلق دریافت کیا جو اپنے گھر والوں سے جماع کرے پھر سستی پڑجانے کی وجہ سے انزال نہ ہو۔ (تو اس کا کیا حکم ہے) زید (رض) نے کہا کہ وہ غسل کرے۔ محمود نے کہا ابی بن کعب کے ہاں تو اس سے غسل نہ آتا تھا۔ اس پر زید بن ثابت نے کہا کہ ابی بن کعب نے اپنے اس خیال سے موت سے قبل رجوع کرلیا تھا۔ (اس کو مؤطا امام مالک میں اسی باب میں ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) : ہم اسی کو اخیتار کرتے ہیں جب دونوں شرمگاہیں مل جائیں اور حشفہ غائب ہوجائے ۔ انززال ہو یا نہ ہو بہرحال غسل واجب ہوجاتا ہے۔ یہی امام اوۃ ب حنیفہ (رح) کا قول ہے۔