أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ وَلِيدَةً فَتُعْتِقَهَا، فَقَالَ أَهْلُهَا: نَبِيعُكِ عَلَى أَنَّ وَلاءَهَا لَنَا، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «لا يَمْنَعُكِ ذَلِكَ؛ فَإِنَّمَا الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ» .
قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ، لا يَتَحَوَّلُ عَنْهُ، وَهُوَ كَالنَّسَبِ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
نافع (رح) بیان کرتے ہیں کہ ابن عمر (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ محترمہ عائشہ صدیقہ (رض) عنہا کے متعلق نقل کیا کہ انھوں نے ایک لونڈی خریدکر آزاد کرنے کا ارادہ کیا۔ اس لونڈی کے مالک نے کہا اس کو ہم اس شرط پر فروخت کرتے ہیں کہ اس کی ولاء کے ہم حق دار ہوں گے۔ حضرت عائشہ (رض) عنہا نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا تذکرہ کیا۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ شرط تمہیں اس حق سے نہیں روک سکتی اس لیے کہ ولاء کا حقدار وہی ہے جو اسے ازاد کرے۔ ( ان دونوں آیار اور روایات کو باب مصیر الولاء لمن اعتق میں ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں ولاء کا حق دار وہی ہے جو آزاد کرے یہ حق اس سے منتقل نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ حق نسب کی طرح ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء اسی طرف گئے ہیں