hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 808

.

موطأ الامام محمد

808
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، قَالَ: «مَنْ نَحَلَ وَلَدًا لَهُ صَغِيرًا لَمْ يَبْلُغْ أَنْ يَحُوزَ نُحْلَةٌ فَأَعْلَنَ بِهَا وَأَشْهَدَ عَلَيْهَا فَهِيَ جَائِزَةٌ، وَإِنْ وَلِيَهَا أَبُوهُ» . قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا كُلِّهِ نَأْخُذُ، يَنْبَغِي لِلرَّجُلِ أَنْ يُسَوِّيَ بَيْنَ وَلَدِهِ فِي النُّحْلَةِ، وَلا يُفَضِّلُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ، فَمَنْ نَحَلَ نُحْلَةً وَلَدًا أَوْ غَيْرَهُ فَلَمْ يَقْبِضْهَا الَّذِي نُحِلَهَا حَتَّى مَاتَ النَّاحِلُ وَالْمَنْحُولُ فَهِيَ مَرْدُودَةٌ عَلَى النَّاحِلِ وَعَلَى وَرَثَتِهِ، وَلا تَجُوزُ لِلْمَنْحُولِ حَتَّى يَقْبِضَهَا، إِلا الْوَلَدَ الصَّغِيرَ، فَإِنْ قَبَضَ وَالِدُهُ لَهُ قَبْضٌ فَإِذَا أَعْلَنَهَا وَأَشْهَدَ بِهَا فَهِيَ جَائِزَةٌ لِوَلَدِهِ، وَلا سَبِيلَ لِلْوَالِدِ إِلَى الرَّجْعَةِ فِيهَا، وَلا إِلَى اغْتِصَابِهَا بَعْدَ أَنْ أَشْهَدَ عَلَيْهَا. وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
سعید بن المسیب (رح) بیان کرتے ہیں کہ حضرت عثمان (رض) نے فرمایا جو شخص اپنے بچے کو کچھ ہبہ کردے ۔ جبکہ وہ بالغ نہ ہو اور اس کا اعلان کردے اور اس پر گواہ مقرر کردے تو یہ ہبہ جائز ہے۔ اس کا ولی اس کا باپ ہوگا۔ (اس روایت کو امام مالک نے باب ما یجوز من النخل میں ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ ان تمام احادیث پر ہمارا عمل ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے اولاد کو عطیہ دینے میں مساوات کا لحاظ کرے ان میں سے ایک کو دوسرے پر فوقیت نہ دے۔ اگر کسی شخص نے اپنے بیٹے کو یا کسی اور کو عطیہ دیا اور اس نے وہ عطیہ قبضہ میں نہ لیا اور عطیہ دینے والا مرگیا یا جس کو عطیہ دیا ہو وہ جائے تو عطیہ دینے والے یا اس کے وارث کو وہ عطیہ لوٹ جائے گا۔ جب تک کہ اس پر عطیہ لینے والا قبضہ نہ کرلے۔ اس وقت تک وہ عطیہ دئیے جانے والے کے لیے جائز نہیں۔ البتہ اگر عطیہ یدا جانے والا نابالغ لڑکا ہو اور اس کا والد عطیہ پر قبضہ کرلے تو یہ بالغ کا قبضہ شمار ہوگا۔ جبکہ اس کا اعلان کردیا جائے اور اس پر گواہ بنالئے جائیں تو اس صورت میں یہ عطیہ اس بیٹے کے لیے جائز ہے۔ عطیہ دینے والے کے والد کا اس ہبہ سے رجوع کرنا یا اس کا غصب کرنا جائز نہیں۔ بشرطیکہ اس پر گواہ مقرر ہوچکے ہوں۔ امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا یہی قول ہے۔