أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «مَنْ أَسْلَفَ سَلَفًا فَلَا يَشْتَرِطْ إِلا قَضَاءَهُ» .
قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، لا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَشْتَرِطَ أَفْضَلَ مِنْهُ، وَلا يَشْتَرِطَ عَلَيْهِ أَحْسَنَ مِنْهُ، فَإِنَّ الشَّرْطَ فِي هَذَا لا يَنْبَغِي، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
نافع (رح) بیان کرتے ہیں کہ ابن عمر (رض) سے جو شخص قرض لیتا تو اس کی ادائیگی کے علاوہ اس سے کوئی شرط نہ کرتے۔ (ان تمام روایات کو امام مالک نے باب ما یجوز من السلف میں ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ ہمارا مختار یہی قول ہـے۔ یہ جائز نہیں کہ وہ اس سے افضل یا اس سے بہتر کی شرط مقرر کرے۔ کیونکہ قرض میں کوئی شرط لگانا جائز نہیں ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا یہی قول ہے۔