أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَسْلَفَ مِنْ رَجُلٍ بَكْرًا، فَقَدِمَتْ عَلَيْهِ إِبِلٌ مِنْ صَدَقَةٍ، فَأَمَرَ أَبَا رَافِعٍ أَنْ يَقْضِيَ الرَّجُلَ بَكْرَهُ، فَرَجَعَ إِلَيْهِ أَبُو رَافِعٍ، فَقَالَ: لَمْ أَجِدْ فِيهَا إِلا جَمَلا رَبَاعِيًا خِيَارًا، فَقَالَ: أَعْطِهِ إِيَّاهُ، فَإِنَّ خِيَارَ النَّاسِ أَحْسَنُهُمْ قَضَاءً ".
قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِقَوْلِ ابْنِ عُمَرَ نَأْخُذُ، لا بَأْسَ بِذَلِكَ، إِذَا كَانَ مِنْ غَيْرِ شَرْطٍ اشْتُرِطَ عَلَيْهِ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ
عطاء بن یسار (رح) نے رافع (رض) سے نقل کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی شخص سے ایک چھوٹا اونٹ قرض لیا ۔ آپ کے پاس صدقہ کے اونٹ يئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابو رافع (رض) کو حکم فرمایا۔ کہ اسے ایک چھوٹا اونٹ دے دو ۔ ابو رافع (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آئے اور عرض کیا صدقہ میں سب سے اجھے اور چھ برس کی عمر کے بڑے اور نٹ ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ انہی میں سے دے دو ۔ کہ اچھے لوگ وہ ٧٧ ہیں جو قرض بہتر طور پر ادا کریں۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ہمارا عمل ابن عمر (رض) کے قول پر ہے اس میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ اس قسم کی کوئی شرط ( قرض کے وقت ) مقرر نہ کی گئی ہو۔ یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔