hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 828

.

موطأ الامام محمد

828
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا رَبِيعَةُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ حَنْظَلَةَ الأَنْصَارِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَأَلَ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ فَقَالَ: «قَدْ نُهِيَ عَنْهُ» ، قَالَ حَنْظَلَةُ: فَقُلْتُ لِرَافِعٍ: بِالذَّهَبِ، وَالْوَرِقِ؟ قَالَ رَافِعٌ: لا بَأْسَ بِكِرَائِهَا بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ. قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، لا بَأْسَ بِكِرَائِهَا بِالذَّهَبِ، وَالْوَرِقِ بِالْحِنْطَةِ كَيْلا مَعْلُومًا، وَضَرْبًا مَعْلُومًا، مَا لَمْ يُشْتَرَطْ ذَلِكَ مِمَّا يَخْرُجُ مِنْهَا، فَإِنِ اشْتُرِطَ مِمَّا يَخْرُجُ مِنْهَا كَيْلا مَعْلُومًا، فَلا خَيْرَ فِيهِ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا، وَقَدْ سُئِلَ عَنْ كِرَائِهَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ بِالْحِنْطَةِ كَيْلا مَعْلُومًا، فَرَخَّصَ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ: هَلْ ذَلِكَ إِلا مِثْلُ الْبَيْتِ يُكْرَى
حنظلہ انصاری (رح) نے خبر دی کہ میں نے رافع بن خدیج (رض) سے کھیتوں کے کرایہ کے متعلق دریافت کیا۔ انھوں نے فرمایا اس سے منع کیا گیا ہے۔ حنظلہ کہتے ہیں میں نے دوسرا سوال سونے چاندی کے متعلق کیا تو انھوں نے فرمایا چاندی و سونے کے بدلے میں کرایہ پر دینے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے
(اس روایت کو کتاب کر اء الارض میں امام مالک نے ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : ہمارا مختار یہی قول ہے۔ سونے چاندی اور گندم کے بدلے زمین کرایہ بر دینے میں کوئی حرج نہیں جبکہ وزن اور جنس معلو ہو۔ یہ شرط نہ کی ہو کہ جو کچھ زمین سے پیدا ہوگا وہ دے دے گا۔ اکر یہ شرط ٹھہرائی کہ جو زمین سے پیدا ہوگا اس میں سے اس قدر دے دوں گا۔ تو اس میں کوئی اچھائی نہیں ہے۔ یہی امام ابوحنیفہ رحمہ الل ٩ ہ اور ہمارے یعام فقہاء کا قول ہے۔ اور سعیدبن جبیر سے ایک مقررہ مقدار گندم کے بدلے زمین کرایہ پر دینے کے متعلق دریافت کیا گیا تو انھوں نے اس کی اجازت دے دی۔ انھوں نے فرمایا یہ یہ اس طرح ہے جیسے مکان کرایہ پردے دیا جاتا ہے ( مزارعت کی اس صورت کے تمام علماء احناف قائل ہیں امام صاحب کا اختلاف صرف بٹائی میں ہے۔ امام صاحب کے ہاں زمین سے حاصل ہونے والی فصل کے ثلث ، ربع پر زمین کو کرائے پر دینا درست نہیں اس کو مخابرت کہا جاتا ہے اور اسی کی ممانعت احادیث میں آتی ہے۔ مزارعت کو سب جائز مانتے ہیں)