أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيْتَةً فَهِيَ لَهُ» . قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيْتَةً بِإِذْنِ الإِمَامِ، أَوْ بِغَيْرِ إِذْنِهِ فَهِيَ لَهُ، فَأَمَّا أَبُو حَنِيفَةَ فَقَالَ: لا يَكُونُ لَهُ إِلا أَنْ يَجْعَلَهَا لَهُ الإِمَامُ، قَالَ: وَيَنْبَغِي لِلإِمَامِ إِذَا أَحْيَاهَا أَنْ يَجْعَلَهَا لَهُ، وَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ لَمْ تَكُنْ لَهُ
سالم بن عبداللہ (رح) نے عبداللہ بن عمر (رض) سے نقل کیا کہ جس نے غیر آباد زمین کو يباد کیا وہ اس کی ملکیت ہے ( ان دونوں آثار کو امام مالک نے باب القضاء فی عمارۃ الموات میں ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں کہ امام اجازت یا بلا اذن جس نے بنجر زمین کو آباد کیا تو وہ اسی کی ملکیت ہے۔ امام ابو حنف ہے (رح) کا قول یہ ہے کہ زمین اس کی ملکیت نہ بنے گی۔ جب تک امام اس کو اجازت نہ دے لیکن امام کے لیے مناسب یہی ہے۔ کہ جب اس نے آباد کی ہے تو وہ اس کو دے دے۔ اور اگر امام اجازت نہ دے تو وہ اس کی نہیں ہوگی۔