أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، «أَعْتَقَ وَلَدَ زِنًا وَأُمَّهُ» .
قَالَ مُحَمَّدٌ: لا بَأْسَ بِذَلِكَ، وَهُوَ حَسَنٌ جَمِيلٌ، بَلَغَنَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ عَبْدَيْنِ: أَحَدُهُمَا لِبَغِيَّةٍ، وَالآخَرُ لِرِشْدَةٍ: أَيُّهُمَا يُعْتَقُ؟ قَالَ: أَغْلاهُمَا ثَمَنًا بِدِينَارٍ.
فَهَكَذَا نَقُولُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
نافع بیان کرتے ہیں کہ ابن عمر (رض) نے ایک والد الزناء کو اور اس کی والدہ کو آزاد کردیا ( اس روایت کو باب فضل عتق الرقاب میں امام مالک نے ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے بلکہ یہ سب بہتر ہے۔ ابن عباس (رض) سے ہمیں یہ روایت پہنجی ہے کہ ان دو غلاموں کے متعلق جب ان سے سوال ہوا کہ ایک زانیہ لونڈی کے بطن سے ہے دوسرا نیک لوندی کے بطن سے ہے ان میں سے کس کو آزاد کیا جائے۔ انھوں نے فرمایا جس کی قیمت زایدہ ہو۔ چانچہ ہم بہی یہی کہتے ہیں۔ یہی امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا قول ہے۔