أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: «تُوُفِّيَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ فِي نَوْمٍ نَامَهُ، فَأَعْتَقَتْ عَائِشَةُ رِقَابًا كَثِيرَةً» .
قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، لا بَأْسَ أَنْ يُعْتَقَ عَنِ الْمَيِّتِ، فَإِنْ كَانَ أَوْصَى بِذَلِكَ كَانَ الْوَلاءُ لَهُ، وَإِنْ كَانَ لَمْ يُوصِ كَانَ الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ، وَيَلْحَقُهُ الْأَجْرُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى
حییٰ بن سعید بیان کرتے ہیں کہ عبد الرحمن بن ابی بکر (رض) نیند کی حالت میں انتقال فرماگئے۔ تو ان کی طرف سے ان کی بہن عائشہ (رض) عنہا نے بہت سے غلام آزاد کئے ۔ ( اس روایت کو باب عتق الحی عن المیت میں امام مالک نے ذکرمایا ہے) ۔
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ ہم اسی کو مختار قرار دیتے ہیں کہ میت کی طرف سے غلام آزاد کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اگر مرحوم کی طرف سے وصیت ہو تو ولاء اس کی ہوگی۔ اور اکر وصیت نہ کی ہو بلکہ بطور تبرع ہو تو ولاء آزاد کرنے والے کو ملے گی اور اس کو ان شاء اللہ تعالیٰ اجر بھی ملے گا۔