hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 848

.

موطأ الامام محمد

848
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ الزُّهْرِيُّ، أَنَّ ضَوَالَّ الإِبِلِ كَانَتْ فِي زَمَنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِبِلا مُرْسَلَةً تَنَاتَجُ، لا يَمَسُّهَا أَحَدٌ، حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ زَمَنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَمَرَ بِمَعْرِفَتِهَا، وَتَعْرِيفِهَا، ثُمَّ تُبَاعُ، فَإِذَا جَاءَ صَاحِبُهَا أُعْطِيَ ثَمَنَهَا ". قَالَ مُحَمَّدٌ: كِلَا الْوَجْهَيْنِ حَسَنٌ، إِنْ شَاءَ الإِمَامُ تَرَكَهَا حَتَّى يَجِيءَ أَهْلُهَا، فَإِنْ خَافَ عَلَيْهَا الضَّيْعَةَ، أَوْ لَمْ يَجِدْ مَنْ يَرْعَاهَا فَبَاعَهَا، وَوَقَّفَ ثَمَنَهَا حَتَّى يَأْتِيَ أَرْبَابُهَا فَلا بَأْسَ بِذَلِكَ
ابن شہاب زہریر بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) کے زمانہ میں گمشدہ اونٹنیاں چھوڑی جاتی تھیں۔ وہ بچے جنتی تھیں اوۃ ر انھیں کوئی نہیں چھوتا تھاد یہاں تک کہ حضرت عثمان (رض) کا زمانہ آیا تو آپ نے ان کو پہچاننے اور مشتہر کرنے کا حکم دیا (مالک نہ ملتا ) تو انھیں فروخت کردیا جاتا جب مالک آتا تو اس کو اس کی قیمت دے دی جاتی۔ ( اس روایت کو امام مالک (رح) نے باب القضاء فی الضوال میں ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ اس کی دونوں صورتیں بہتر ہیں (١) امام پسند کرے تو اسے چھوڑدے یہاں تک کہ اس کا مالک آجائے۔ (٢) اگر اسے نقصان کا اندیشہ ہو اور ایسا آدم نہ ملے جو اس کی حفاظت کرے۔ تو اس کو فروخت کردے اور اس کی قیمت محفوظ رکھی جائے۔ تآنکہ اس کا مالک آجائے۔ ان دونوں صورتوں میں کوئی حرج نہیں ہے۔