أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، أَنَّ رَجُلا وَجَدَ لُقَطَةً، فَجَاءَ إِلَى ابْنِ عُمَرَ، فَقَالَ: إِنِّي وَجَدْتُ لُقَطَةً، فَمَا تَأْمُرُنِي فِيهَا؟ قَالَ ابْنُ عُمَرَ: عَرِّفْهَا، قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ، قَالَ: زِدْ، قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ، قَالَ: لا آمُرُكَ أَنْ تَأْكُلَهَا، لَوْ شِئْتَ لَمْ تَأْخُذْهَا
نافع (رح) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص کو گری پڑی جیز ملی وہ ابن عمر (رض) کے پاس آیا۔ کہ مجھے گری پڑی چیز ملی ہے۔ آپ اس کے متعلق مج ہے کیا حکم دیتے ہیں۔ ابن عمر (رض) نے فرمایا اس کی مشہوری کرو۔ اس نے کہا کہ میں مشتہر کرچکا ہوں انھوں نے فرمایا اور مشتہر کرو۔ میں نے کہا متعدد بار کرچکا ہوں۔ انھوں نے فرمایا میں تمہیں کھانے کا حکم نہ دوں گا۔ ہاں اگر تم چاہتے۔ تو پہلے اسے نہ لیتے ( اب تو حفاظت کرنا ضروری ہے) ( اس روایت کو باب القضاء فی اللقطہ میں ذکر کیا ہے)