أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالشُّفْعَةِ فِيمَا لَمْ يُقَسَّمْ، فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ فَلا شُفْعَةَ فِيهِ ".
قَالَ مُحَمَّدٌ: قَدْ جَاءَتْ فِي هَذَا أَحَادِيثُ مُخْتَلِفَةٌ، فَالشَّرِيكُ أَحَقُّ بِالشُّفْعَةِ مِنَ الْجَارِ، وَالْجَارُ أَحَقُّ مِنْ غَيْرِهِ، بَلَغَنَا ذَلِكَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ابو سلمہ بن عبد الرحمن (رح) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس زمین کے شفعہ کا فیصلہ فرمایا جو تقسم نہ ہوئی ہو۔ جب حدیں لگادیں جائیں تو کوئی شفعہ نہیں۔ ( ان روایت کو باب ما تقع فیہ الشفعۃ میں ذکر کیا گیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : اس کے متعلق مختلف روایات وارد ہوئی ہیں۔ پر وسی کی بنسبت شریک شفعہ کا زیادہ حقدار ہے۔ اور پڑوسی دوسرے کی بنسبت زیادہ حق دار ہے۔ یہ ہر وایت نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہمیں پہنچی ہے۔