hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 869

.

موطأ الامام محمد

869
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَأَى حُلَّةَ سِيَرَاءَ تُبَاعُ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوِ اشْتَرَيْتَ هَذِهِ الْحُلَّةَ، فَلَبِسْتَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَلِلْوُفُودِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْكَ؟ قَالَ: «إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لا خَلاقَ لَهُ فِي الآخِرَةِ» ، ثُمَّ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا حُلَلٌ، «فَأَعْطَى عُمَرَ مِنْهَا حُلَّةً» ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَسَوْتَنِيهَا، وَقَدْ قُلْتَ فِي حُلَّةِ عُطَارِدٍ مَا قُلْتَ؟ قَالَ: «إِنِّي لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا» . فَكَسَاهَا عُمَرُ أَخًا لَهُ مِنْ أُمِّهِ مُشْرِكًا بِمَكَّةَ. قَالَ مُحَمَّدٌ: لا يَنْبَغِي لِلرَّجُلِ الْمُسْلِمِ أَنْ يَلْبَسَ الْحَرِيرَ، وَالدِّيبَاجَ وَالذَّهَبَ، كُلُّ ذَلِكَ مَكْرُوهٌ لِلذُّكُورِ مِنَ الصِّغَارِ وَالْكِبَارِ، وَلا بَأْسَ بِهِ لِلإِنَاثِ وَلا بَأْسَ بِهِ أَيْضًا بِالْهَدِيَّةِ إِلَى الْمُشْرِكِ الْمُحَارِبِ، مَا لَمْ يُهْدَ إِلَيْهِ سِلاحٌ أَوْ دِرْعٌ. هُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
نافع (رح) نے ابن عمر (رض) سے روایت نقل کی کہ حضرت عمر (رض) نے مسجد نبوی کے دروازہ کے پاس خالاص ریشمی کپڑا فروخت ہوتا دیکھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں عرض کیا۔ کاش آپ یہ حلہ خرید لیتے اور اسے جمع کے دن یا وفود کے اپنے پاس آنے پر پہنتے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ اس کو وہ شخص پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان میں سے ایک عمر (رض) کو دیا۔ عمر (رض) نے عرض کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ مجھے دی دیا حالانکہ آپ نے عطارد کے حلہ کے متعلق فرمایا جو فرمایا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ یہ میں نے تمہیں پہننے کو تھوڑا دیا ہے۔ حضرت عمر (رض) نے وہ کپڑا مکہ مکرمہ میں مقیم ماں کی طرف سے رشتہ دار ایک مشرک بھائی کو دے دیا۔
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ مسلمان مرد کے لیے جائز نہیں کہ وہ ریشم یا ریشمی کپڑا یا سونا پہنے۔ یہ تمام چیزیں چھوٹے بڑے مردوں کے لیے ناجائز ہیں۔ عورتوں کے استعمال میں کوئی حرج نہیں۔ اسی طرح حربی مشرک کو بطور تحفہ دینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ البتہ اسالحہ یا زرہ دینا مشرک حربی کو جائز نہیں ہے۔ یہ امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا قول ہے۔