أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي كُنْتُ أَلْبَسُ هَذَا الْخَاتَمَ، فَنَبَذَهُ، وَقَالَ: وَاللَّهِ لا أَلْبَسُهُ أَبَدًا "، قَالَ: فَنَبَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ ".
قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، لا يَنْبَغِي لِلرَّجُلِ أَنْ يَتَخَتَّمَ بِذَهَبٍ وَلا حَدِيدٍ وَلا صُفْرٍ وَلا يَتَخَتَّمُ إِلا بِالْفِضَّةِ، فَأَمَّا النِّسَاءُ فَلا بَأْسَ بِتَخَتُّمِ الذَّهَبِ لَهُنَّ
عبداللہ بن دینار نے ابن عمر (رض) نے ابن عمر (رض) سے روایت نقل کی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سو نے کی ایک انگوٹھی لی اور کھڑے ہو کر فرمایا میں یہ انگوٹہی پہنتا تھا۔ پھر اسے پھینکتے ہوئے فرمایا اللہ کی قسم ! آئندہ کبھی اسے نہ پہنوں گا۔ لوگوں نے بھی اپنی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں۔ اس روایت کو امام مالک نے باب ماجاء فی لبس الخاتمہ میں ذکر فرمایا ہے۔
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ ہم اسی کو اختیار کرنے والے ہیں کسی مرد کے لیے جائز نہیں کہ وہ سونے، لوھے، یا تانبے کی انگوٹھی پہنے۔ لیکن عورتوں کے لیے سونے کی انگوٹہی کے استعمال میں مضائقہ نہیں۔