أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، «ضَرَبَ لِلنَّصَارَى، وَالْيَهُودِ، وَالْمَجُوسِ بِالْمَدِينَةِ إِقَامَةَ ثَلاثِ لَيَالٍ يَتَسَوَّقُونَ، وَيَقْضُونَ حَوَائِجَهُمْ، وَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ مِنْهُمْ يُقِيمُ بَعْدَ ذَلِكَ» قَالَ مُحَمَّدٌ: إِنَّ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ وَمَا حَوْلَهُمَا مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَقَدْ بَلَغَنَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ «لا يَبْقَى دِينَانِ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ» .
فَأَخَرَجَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ مَنْ لَمْ يَكُنْ مُسْلِمًا مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ لِهَذَا الْحَدِيثِ
نافع نے ابن عمر (رض) سے نقل کیا کہ حضرت عمر فاروق (رض) نے نصاری یہودی اور آتش پرستوں کو مدینہ منورہ میں تین دن سے زیادہ ٹھہرنے کی اجازت نہ دی۔ تین دن گھوم پھر کر اپنی ضروریات پوری کرلینے کی فقط اجازت دی۔ چنانچہ ان میں سے کوئی تین دن کے بعد نہ ٹھہرتا تھا۔
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ مکہ مکرمہ، اور مدینہ منورہ اور اس کے اطراف جزریہ العرب ہیں۔ ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ روایت پہنچی ہے کہ جزیرۃ العرب میں دو دین نہیں رہیں گے۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) نے اس ارشاد کی بناء پر ان لوگوں کو جو مسلمان نہیں تھے۔ جزیرۃ العرب سے نکال دیا۔