hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 89

.

موطأ الامام محمد

89
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ: «لا بَأْسَ بِأَنْ يَغْتَسِلَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ وَضُوءِ الْمَرْأَةِ، مَا لَمْ تَكُنْ جُنُبًا أَوْ حَائِضًا» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: لا بَأْسَ بِفَضْلِ وَضُوءِ الْمَرْأَةِ وَغُسْلِهَا، وَسُؤْرِهَا وَإِنْ كَانَتْ جُنُبًا، أَوْ حَائِضًا , بَلَغَنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْتَسِلُ هُوَ، وَعَائِشَةُ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ لِيَتَنَازَعَانِ الْغُسْلَ جَمِيعًا، فَهُوَ فَضْلُ غُسْلِ الْمَرْأَةِ الْجُنُبِ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ
نافع (رح) نے ابن عمر (رض) عنہا کا ارشاد نقل کیا کہ اس میں کوئی قباحت نہیں کہ مرد عورت کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرے جبکہ وہ عورت حائضہ یا جنابت والی نہ ہو۔
قول محمد (رح) یہ ہے کہ عورت کے بچے ہوئے یا جھوٹے پانی غسل کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ اگرچہ وہ عورت حائضہ یا جنابت والی ہی کیوں نہ ۔ ہمین یہ روایت پہنچی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور عائشہ صدیقہ (رض) عنہا ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے اور وہ یکے بعد دیگرے اس برتن سے پانی لیتے تھے۔ پس یہ جنبی عورت کے بچے ہوئے پانی سے غسل تھا۔ امام ابوحنیفہ (رح) کا بھی یہی قول ہے۔