hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 894

.

موطأ الامام محمد

894
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَكْذِبُ امْرَأَتِي؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لا خَيْرَ فِي الْكَذِبِ» ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعِدُهَا وَأَقُولُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لا جُنَاحَ عَلَيْكَ» . قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، لا خَيْرَ فِي الْكَذِبِ فِي جِدٍّ وَلا هَزْلٍ، فَإِنْ وُسِّعَ الْكَذِبُ فِي شَيْءٍ فَفِي خَصْلَةٍ وَاحِدَةٍ أَنْ تَرْفَعَ عَنْ نَفْسِكَ أَوْ عَنْ أَخِيكَ مَظْلَمَةً، فَهَذَا نَرْجُو أَنْ لا يَكُونَ بِهِ بَأْسٌ
عطاء بن یسار بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایک شخص نے دریافت کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا میں اپنی بیوی سے جھوٹ بول سکتا ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جھوٹ میں کوئی خیر نہیں۔ اس نے عرض کیا۔ کیا اپنی بیوی سے وعدہ کرلوں اور کہہ دوں ( کہ فلاں کام کروں گا) تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس میں مجھ پر حرج نہیں ۔
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ اسی کو ہم اختیار کرتے ہیں۔ جھوٹ ہنسی مذاق میں ہو یا واقعی جھوٹ ہو۔ اس میں کوئی خیر نہیں۔ اگر جھوٹ کے لیے کوئی گنجائش ہوسکتی ہے تو وہ صرف اس صورت میں کہ اپنے آپ سے یا اپنے بھائی سے کسی ظلم کو دور کرنا مقصود ہو۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہ ہوگا۔